اہم ترین

گوگل کروم کے مقابل نیا گیم چینجر! اوپن اے آئی کا اٹلس براؤزر لانچ

اوپن اے آئی اپنا نیا ویب براؤزر “اٹلس” متعارف کروا دیا ہے، جسے ٹیکنالوجی ماہرین براہِ راست گوگل کروم کے مقابل ایک بڑا قدم قرار دے رہے ہیں۔ جیسے جیسے دنیا بھر کے انٹرنیٹ صارفین تیزی سے اے آئی پر مبنی جوابات پر انحصار کر رہے ہیں، اٹلس کی آمد کو “براؤزر وار” کے ایک نئے دور کی شروعات کہا جا رہا ہے۔

اوپن اے آئی کی یہ نئی حکمتِ عملی اس کے مشہور چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی کو انٹرنیٹ سرچ کے مرکز میں بدلنے کی کوشش ہے۔ اس اقدام کے ذریعے کمپنی کو ڈیجیٹل اشتہارات اور ویب ٹریفک سے زیادہ کمائی کے مواقع حاصل ہو سکتے ہیں۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر چیٹ جی پی ٹی صارفین کو براہِ راست خلاصہ شدہ جوابات دینے لگے تو روایتی ویب سائٹس کی ٹریفک متاثر ہوسکتی ہے، کیونکہ لوگ لنکس پر کلک کرنے کے بجائے سیدھا چیٹ جی پی ٹی سے جواب لینا پسند کریں گے۔

فی الحال چیٹ جی پی ٹی کے 800 ملین سے زائد صارفین ہیں، جن میں سے بیشتر مفت سہولت استعمال کرتے ہیں۔ اگرچہ کمپنی پریمیئم سبسکرپشن بھی دیتی ہے، لیکن آمدنی کے مقابلے میں اخراجات اب بھی زیادہ ہیں۔

اٹلس فی الحال ایپل میک او ایس پر دستیاب ہے، جبکہ ونڈوز، آئی او ایس اور اینڈرائیڈ کے لیے بھی جلد ریلیز کیا جائے گا۔

براؤزر مارکیٹ میں نئی جنگ

اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹمین نے اس لانچ کو ہر دہائی میں ملنے والا ایک انوکھا موقع قرار دیا ہے، جس کے ذریعے براؤزر کے تصور اور استعمال کا نیا باب لکھا جا سکتا ہے۔

ٹیک تجزیہ کار پیڈی ہیریگٹن کے مطابق گوگل جیسے بڑے حریف کا مقابلہ کرنا ایک مشکل مگر دلچسپ چیلنج ہوگا۔

اس وقت گوگل کروم کے تقریباً 3 ارب صارفین ہیں اور وہ بھی اپنے براؤزر میں جمنئی اے آئی فیچرز شامل کر چکا ہے۔ جیسے 2008 میں کروم نے اپنی رفتار اور کارکردگی سے دنیا بدل دی تھی، ویسے ہی اوپن اے آئی اب اٹلس کے ذریعے ویسا ہی انقلاب لانے کا خواب دیکھ رہا ہے۔

ایجنٹ موڈ : اٹلس کی سب سے بڑی خاصیت

سیم آلٹمین کے مطابق مستقبل میں روایتی یو آر ایل بار کی جگہ اے آئی چیٹ انٹرفیس لے لے گا۔ اٹلس میں متعارف کرایا گیا ایجنٹ موڈ صارف کے لیپ ٹاپ سے جڑ کر خودکار طور پر انٹرنیٹ پر سرچ، کلک اور نتائج فراہم کرتا ہے۔

یہ فیچر صارف کی براؤزنگ ہسٹری، مقاصد اور ترجیحات کو سمجھ کر نتائج کو ذاتی نوعیت دیتا ہے۔ آلٹمین کے الفاظ میں یہ انٹرنیٹ کو آپ کے لیے استعمال کرتا ہے، آپ کے خلاف نہیں۔ تاہم بعض ماہرین اسے صارف کی نجی معلومات اور پرائیویسی کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں، کیونکہ یہ فیچر صارف کے ڈیٹا کی بنیاد پر اشتہارات سے متاثرہ نتائج دکھا سکتا ہے۔

پاکستان