اہم ترین

روس کی ڈرونز سے یوکرین پر یلغار: ملک بھر میں بجلی بند

روس نے یوکرین کے خلاف بڑی فضائی کارروائی کی ہے۔ جس سے ملک بھر میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی ۔ اس کے علاوہ حرارتی نظام بھی بیٹھ گیا ہے۔ کیف میں رات بھر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور شہر کے اوپر دھویں کے بادل اٹھتے نظر آئے۔

اے ایف پی کے مطابق یوکرین کے دارالحکومت کیف اور آس پاس کے علاقوں پر روس کے تازہ فضائی حملے میں کم از کم 6 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہو گئے، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ حملوں کے نتیجے میں ملک بھر میں سرد موسم کے دوران بجلی اور حرارتی نظام کی فراہمی معطل ہو گئی۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب روس یوکرین جنگ کے خاتمے کی سفارتی کوششیں ایک بار پھر ناکامی کا شکار ہو گئی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان مجوزہ ملاقات منسوخ ہونے سے امن مذاکرات کو دھچکا لگا ہے۔

یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایک اور رات یہ ثابت کرتی ہے کہ روس پر جنگ طول دینے کے لیے دباؤ کافی نہیں ہے۔اب تک 17 افراد کے زخمی ہونے اور 6 کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔جب تک روسی قیادت خود کو سنگین مسائل کا سامنا محسوس نہیں کرتی، اس وقت تک ان کے سفارتی بیانات بے معنی ہیں۔

یوکرین کی وزارت توانائی کے مطابق، روس نے میزائل اور ڈرونز سے یوکرین کے توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں بیشتر علاقوں میں ہنگامی بجلی بندش کا نفاذ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے رات بھر 33 یوکرینی ڈرونز کو تباہ کر دیا ہے، تاہم اس نے کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں دی۔

یہ حملہ ایک ایسے وقت پر ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر پوتن سے یہ کہتے ہوئے ملاقات منسوخ کر دی کہ وہ وقت ضائع کرنے والی ملاقات نہیں کرنا چاہتے۔

ایک اعلیٰ یوکرینی عہدیدار کے مطابق، امریکی صدر نے پچھلے ہفتے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران زیلنسکی پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ مشرقی علاقے ڈونباس سے دستبردار ہو جائیں، لیکن یوکرین نے زمین چھوڑنے کی تجویز کو سختی سے مسترد کر دیا۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے فروری 2022 میں یوکرین پر مکمل حملے کا حکم دیا تھا، فی الوقت روس نے یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے۔

پاکستان