اہم ترین

مالدیپ تمباکو نوشی پر پابندی لگانے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا

مالدیپ نے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے پوری ایک نسل کے لیے تمباکو کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ نیا قانون 2 نومبر سے نافذ العمل ہوچکا ہے۔

مالدیپ کی وزارتِ صحت کے مطابق یکم جنوری 2007 یا اس کے بعد پیدا ہونے والے افراد پر ملک بھر میں سگریٹ یا کسی بھی قسم کی تمباکو مصنوعات خریدنے، استعمال کرنے یا بیچنے پر مستقل پابندی ہوگی۔

اس قانون کے تحت موجودہ وقت میں 18 سال یا اس سے کم عمر افراد اب زندگی بھر کبھی بھی قانونی طور پر سگریٹ نوشی نہیں کر سکیں گے ۔ چاہے وہ عمر میں کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہو جائیں۔

وزارتِ صحت نے اپنے بیان میں کہا کہ اس قانون کا مقصد عوامی صحت کا تحفظ اور تمباکو سے پاک نسل کی تشکیل ہے۔

یہ قانون نہ صرف ملک کے شہریوں بلکہ مالدیپ آنے والے غیر ملکی سیاحوں پر بھی لاگو ہوگا۔

نئے ضابطے کے تحت دکانداروں کو لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ خریدار کی عمر کی تصدیق کریں۔ 18 سال کے بعد پیدا ہونے والے شخص کو سگریٹ یا تمباکو فروخت کرنے والے دکاندار پر 50 ہزار مالدیپی رفیا ( 9 لاکھ پاکستانی روپے ) تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

مالدیپ میں تمباکو نوشی کے علاوہ ای سگریٹ اور ویپنگ ڈیوائسز کے استعمال، درآمد اور فروخت پر پہلے ہی سے مکمل پابندی ہے۔ ای ویپنگ ڈیوائس استعمال کرتے پکڑے جانے والے شخص پر 5000 رفیا (ایک لاکھ پاکستانی روپےتقریباً) کا جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔

مالدیپ اس سے قبل صرف نیوزی لینڈ نے ایسا ہی نسلی تمباکو پابندی قانون منظور کیا تھا،لیکن وہ قانون 2023 میں منسوخ کر دیا گیا۔برطانیہ نے بھی ایک مشابہ قانون پر غور کیا تھا، تاہم اسے تاحال نافذ نہیں کیا گیا۔

پاکستان