برطانیہ میں مقیم 47 سالہ چینی خاتون ژیمن کیان پر الزام ہے کہ اس نے 2014 سے 2017 کے دوران چین میں ایک لاکھ 28 ہزار سے زائد افراد سے فراڈ کرکے اربوں ڈالر جمع کئے اور اس رقم کو بٹ کوائن میں تبدیل کر کے محفوظ رکھا۔
فرانسیسی نیوز ویب سائیٹ فرانس 24 کے مطابق ژیمن کیان نے چین میں سرمایہ کاری پر بھاری منافع کا جھانسہ دے کر اربوں روپے کا فراڈ کیا اور 2018 میں برطانیہ آگئی۔ جہاں اس نے یادی ژانگ کے نام سے جعلی شناخت اختیار کر رکھی تھی۔
پولیس کے مطابق اس نے متاثرین کی رقم سے برطانیہ میں جائیدادیں خریدیں، جن میں 23 ملین پاؤنڈ (30 ملین ڈالر) مالیت کا ایک لندن مینشن بھی شامل ہے۔
پولیس کی نگرانی کے دوران کیان کی شریک ملزمہ سنگ ہوک لِنگ کے ذریعے اس کی سرگرمیوں کا سراغ لگایا گیا۔ اپریل 2024 میں دونوں کو گرفتار کر لیا گیا، اور ان کے قبضے سے ایک کروڑ 10 لاکھ پاؤنڈ نقد، سونا اور 61 ہزار سے زائد بٹ کوائن سمیت کرپٹو کرنسی برآمد ہوئی۔
کیان نے 29 ستمبر کو عدالت میں غیر قانونی دولت کے حصول اور قبضے کے الزامات قبول کر لیے۔ اسی کیس میں اس کی ملیشیائی شریکِ جرم سنگ ہوک لِنگ نے بھی منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا ہے، جب کہ ایک اور شریکِ جرم جیان وین کو گزشتہ سال 6 سال 8 ماہ قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔
قانونی ماہر ویلیم گلوور کے مطابق یہ ممکنہ طور پر اپنی نوعیت کا سب سے بڑا انفرادی مقدمہ ہے، جس میں کوئی کمپنی نہیں بلکہ ایک شخص ملوث ہے۔ ان کے بقول کئی متاثرین نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی، شادیاں، اور خاندانی رشتے کھو دیے ہیں۔
ایک متاثرہ چینی جوڑےنے اپنی ریٹائرمنٹ اور بیٹی کی تعلیم کے لیے جمع کی گئی لاکھوں ڈالر کی رقم 2016 میں کیان کی اسکیم میں لگا دی۔ 2017 میں منافع کی ادائیگی بند ہو گئی، جس کے بعد ان کی بیٹی نے والدین سے تعلق توڑ دیا۔
وکیل جیکسن نگ کے مطابق کیان عوامی تقریبات کا انعقاد کرتی تھی اور دعویٰ کرتی تھی کہ اسے حکومتی حمایت حاصل ہے، جس سے عام لوگ دھوکے میں آگئے۔
فی الوقت برطانوی عدالت میں متاثرین کے لیے معاوضے کے منصوبے پر غور جاری ہے۔ 1300 سے زائد متاثرین نے عدالت میں اپنے دعوے درج کرائے ہیں۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بٹ کوائن کی قدر 2018 کے اختتام پر 3600 ڈالر تھی، جو اب بڑھ کر تقریباً 100,000 ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہے۔











