امریکی ایوانِ نمائندگان میں وفاقی اخراجات سے متعلق بل پر ووٹنگ ہونے جا رہی ہے، جس کا مقصد حکومت کے 6 ہفتے سے جاری شٹ ڈاؤن بحران کا خاتمہ کرنا ہے۔ اس سے قبل پیر کو سینیٹ میں 8 ڈیموکریٹس نے ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے ساتھ مل کر بل کے حق میں ووٹ دیا تھا۔
ویٹرنز ڈے کے موقع پر آرلنگٹن نیشنل قبرستان میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلکن اسپیکر مائیک جانسن اور سینیٹ کے اکثریتی رہنما جان تھون کو مبارکباد دی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ہم اپنا ملک دوبارہ کھول رہے ہیں، اسے کبھی بند ہی نہیں ہونا چاہیے تھا۔انہوں نے ایک روایتی قومی تقریب کو سیاسی رنگ دے کر امریکی صدور کی روایت بھی توڑ دی۔
بعد ازاں ٹرمپ نے نیوز چینل سے گفتگو میں کہا کہ انہیں یقین ہے ریپبلکن اکثریت والا ایوانِ نمائندگان بل منظور کر لے گا۔ صرف وہی لوگ اس کی مخالفت کر رہے ہیں جو اپنے ملک سے نفرت کرتے ہیں۔
دوسری جانب سینیئر ڈیموکریٹس نے بل کی مخالفت کا اعلان کیا ہے، تاہم چونکہ اسے منظور ہونے کے لیے صرف سادہ اکثریت درکار ہے، اس لیے امکان ہے کہ بل منظور ہو جائے گا۔
شٹ ڈاؤن کے دوران 10 لاکھ وفاقی ملازمین کو تنخواہیں نہیں ملیں، غریب امریکیوں کے لیے مفت خوراک کی فراہمی خطرے میں پڑ گئی، جب کہ ہزاروں پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوئیں۔
ٹرانسپورٹیشن سیکریٹری شان ڈفی نے خبردار کیا کہ اگر شٹ ڈاؤن جاری رہا تو ایئر ٹریفک کنٹرولرز کی تنخواہیں نہ ملنے کے باعث فضائی نظام مزید مفلوج ہو سکتا ہے۔
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق شٹ ڈاؤن کے 40 دن گزرنے کے بعد عوام نے زیادہ تر ذمہ داری ٹرمپ کی پارٹی پر عائد کی۔ تاہم پیر کو سینیٹ میں ڈیموکریٹس نے بغیر اپنی شرائط منوائے ریپبلکنز کو اضافی ووٹ دے دیے۔
یہ فیصلہ ڈیموکریٹس کے اندر تقسیم کا باعث بن گیا ہے۔ کئی سینیئر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پارٹی کو ہیلتھ انشورنس سبسڈی میں توسیع کے مطالبے پر ڈٹے رہنا چاہیے تھا۔
سینیٹ میں ڈیموکریٹک اقلیتی رہنما چَک شومر اگرچہ بل کے خلاف ووٹ دے چکے ہیں، لیکن اپنی پارٹی کے ارکان کو قابو میں نہ رکھنے پر ان پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
یہ سب اس وقت ہوا جب حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے نیویارک، نیو جرسی اور ورجینیا میں کامیابیاں حاصل کیں، جنہوں نے ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد پہلی بار ریپبلکنز پر سیاسی دباؤ بڑھایا تھا۔
دوسری جانب ریپبلکنز نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ہیلتھ انشورنس کے معاملے پر الگ سے ووٹنگ کرائیں گے۔ بصورتِ دیگر، لاکھوں امریکیوں کے لیے ’اوباما کیئر کے تحت انشورنس پریمیم دوگنا ہو سکتے ہیں۔
ہیلتھ کیئر کا یہی مسئلہ اب خود ٹرمپ کی میک امریکا گریٹ اگین تحریک میں دراڑ ڈال رہا ہے۔ پیر کو ٹرمپ نے اپنی پرانی حلیف مارجری ٹیلر گرین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنا راستہ کھو چکی ہیں، کیونکہ انہوں نے اپنے بالغ بچوں کے پریمیم بڑھنے پر ناراضی ظاہر کی تھی۔











