اہم ترین

دنیا کے سب سے دیرپا نقلی 8 پیکس کے لئے نوجوان نے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے لگادیئے

فیشن اور بیوٹی انفلوئنسر اینڈی ہاؤ تیانان نے اپنے فالوورز کو اس وقت چونکا دیا جب اس نے انکشاف کیا کہ اس کے جسم کا 20 فیصد حصہ ہائیالورونک ایسڈ پر مشتمل ہے۔ نوجوان چینی انفلوئنسر نے گزشتہ ماہ اس وقت سوشل میڈیا پر دھوم مچادی جب اس نے 40 انجیکشنز کے ذریعے کندھوں، چھاتی، کالر بون اور پیٹ میں ہائیالورونک ایسڈ داخل کرایا ۔ جس پر تقریباً 40 لاکھ یوان (5 لاکھ 62 ہزار امریکی ڈالریعنی کم و بیس ایک کروڑ 60 لاکھ پاکستانی روپے) خرچ ہوئے

ہاؤ تیانان نے کہا کہ میں مانتا ہوں کہ مسلز بزدلوں پر نہیں بنتے، مگر اتنے انجیکشن لگوانے کے بعد میں بزدل نہیں رہا۔ کیا آپ میں ہمت ہے کہ میرے جیسا کرو؟، اگر میرے ایبز تین سال میں غائب نہ ہوئے تو میں گنیز ورلڈ ریکارڈ کے لیے درخواست دوں گا — دنیا کے سب سے دیرپا نقلی ایبز کا۔ہائیالورونک ایسڈ سے بنے یہ ایبز قدرتی لگتے ہیں اور وقت کے ساتھ مزید بہتر نظر آتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے ایبز اتنے سخت ہیں کہ وہ لائیو اسٹریم پر ان سے اخروٹ توڑنے کا مظاہرہ بھی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

جہاں کچھ لوگ اینڈی کو ’’شارٹ کٹ باڈی‘‘ کا ماسٹر سمجھ کر سراہ رہے ہیں، وہیں ماہرین نے سخت طبی خدشات ظاہر کیے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق ایسے انجیکشنز ہڈیوں کے نقصان، خون کی شریانوں کے مرنے، قدرتی مسلز کے کمزور ہونے اور ایسڈ کے جسم میں پھیلنے یا جم جانے جیسے سنگین نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔

لیکن اینڈی ہار ماننے کو تیار نہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ 10 ہزار انجیکشنز لگوانے کا ہدف رکھتا ہے اور اب تک وہ اس کا 40 فیصد مکمل کر چکا ہے۔

چین میں اس کے نقلی 8 پیک ایبز کو ملک کا پہلا تجربہ قرار دیا جا رہا ہے، اور سوشل میڈیا پر لوگ اسے پلاسٹک باڈی کنگ کے نام سے پکارنے لگے ہیں۔

پاکستان