سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی سے بھی 27ویں آئینی ترمیم منظور کرالی گئی ہے۔ اپوزیشن نے قومی اسمبلی اجلاس کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔
اسپیکر ایازصادق کی سربراہی میں قومی اسمبلی کےاجلاس میں پہلے27ویں آئینی ترمیم کی شق وارمنظوری کا عمل ہوا۔ جس کےبعد بل پرحتمیرائے لی گئی۔
آئینیترمیم کےبل کےحق میں 234 اراکین نے ووٹ دیا جب کہ اپوزیشن نے قومی اسمبلی اجلاس کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔
آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایوان نے آج یکجہتی اور اتحاد کا مظاہرہ کیا، تمام ارکان کا دلی مشکور ہوں۔ آئینی ترمیم کی منظوری میں تعاون پر صدرآصف زرداری اور بلاول بھٹو کا شکرگزار ہوں، اور ڈاکٹرخالدمگسی، خالدمقبول صدیقی، ایمل ولی خان، فاروق ستار کا بھی مشکور ہوں۔
انہوں نے کہا کہ آئینی عدالت کے قیام کا خواب 19سال بعد پورا ہوا، میثاق جمہوریت میں بھی آئینی عدالت کا ذکر تھا۔ اختلاف کرنا اپوزیشن کا حق ہے، ہم احترام کرتے ہیں، دشنام طرازی اورگالم گلوچ سے ہٹ کر ہمیں ملکر ملکی ترقی کیلئے کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ وانا کیڈٹ کالج حملے میں افغان باشندے بھی شامل تھے، اساتذہ اور طلباء کو بحفاظت نکالا گیا،سیکیورٹی فورسز کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاک فوج کے جوانوں اور افسروں کو قوم کی جانب سےمبارکباد پیش کرتے ہیں۔آرمی چیف سیدعاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا ٹائٹل دینا پوری قوم نے سراہا، پاکستانی ایک عظیم قوم ہیں، وہ اپنے ہیروز کو عزت دینا جانتی ہے۔











