بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں، بشمول ٹک ٹاک اور نیٹ فلکس، تیزی سے بڑھتے ہوئے ویڈیو پوڈکاسٹ فارمیٹ کو اپنے مواد میں شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں— یہ وہ شعبہ ہے جو نوجوان ناظرین کو اپنی جانب کھینچتا ہے اور جسے اشتہاری ادارے خاص طور پر اہم سمجھتے ہیں، جبکہ اس میدان میں یوٹیوب بدستور سب سے آگے ہے۔
نیا بھر میں پوڈکاسٹ کا جنون تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور اب اس دوڑ میں بڑے اسٹریمنگ پلیٹ فارمز بھی پورے زور سے کود پڑے ہیں۔ یوٹیوب اس وقت امریکا میں 33 فیصد مارکیٹ شیئر کے ساتھ پوڈکاسٹس کا سب سے مقبول مرکز بن چکا ہے، جبکہ اسپوٹی فائی اور نیٹ فلکس بھی نئی شراکت داریوں کے ذریعے اس میدان میں اپنی جگہ بنانے کے لیے سرگرم ہیں۔
اسپوٹی فائی کے ہیڈ آف پوڈکاسٹس، رومن وازنمُلر کے مطابق یہ دور “پوڈکاسٹنگ کے نئے باب” کا آغاز ہے۔ صرف ستمبر تک اسپوٹی فائی کے 390 ملین صارفین کم از کم ایک ویڈیو پوڈکاسٹ دیکھ چکے ہیں۔
دوسری جانب نیٹ فلکس بھی تیزی سے اس صنعت میں جگہ بنا رہا ہے اور 2026 میں اسپوٹی فائی سے لائسنس شدہ 12 جبکہ بعد میں 200 تک نئے پروگرام متعارف کرانے کی تیاری میں ہے۔
ایمارکیٹر کے تجزیہ کار یورام ورمسَر کا کہنا ہے کہ جین زی پہلے ہی پوڈکاسٹ سننے اور دیکھنے میں آگے ہے، اس لیے تمام پلیٹ فارمز ان نوجوان صارفین سے جڑنے کے لیے اپنی رفتار تیز کر رہے ہیں۔
سیاسی دنیا نے بھی پوڈکاسٹس کی طاقت کو پہچان لیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے پوڈکاسٹ ٹور نے نوجوانوں میں ان کی مقبولیت بڑھائی، جبکہ نیویارک کے نو منتخب میئر، زوہران ممدانی نے بھی بھرپور انداز میں پوڈکاسٹرز سے رابطہ کیا۔
ٹک ٹاک بھی پیچھے نہیں! اس نے امریکی ریڈیو چینل آئی ہارٹ میڈیا کے ساتھ مل کر 25 انفلوئنسر پوڈکاسٹس کا منصوبے کا اعلان کیا ہے، تاہم وہ مکمل اقساط کے بجائے صرف شارٹس اور کلپس دکھائے گا۔
اسی دوران ڈزنی اور نیٹ فلکس اپنی ہٹ سیریز کے اسپن آف پوڈکاسٹس بھی تیزی سے بنارہے ہیں،دی کراؤن، ہارٹ اسٹاپر، اونلی مرڈرز ان دی بلڈنگ اور دیگر مقبول شوز سے منسلک آڈیو سیریز پہلے ہی اس فہرست میں شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق پوڈکاسٹس کا ویڈیو میں آجانا تخلیق کاروں کے لیے مزید ناظرین، زیادہ آمدنی، اور نئے مواقع جیسے سنہری دور کی شروعات ہے۔
امریکی پوڈکاسٹ پروفیسر مارٹن اسپی نیلی کہتے ہیں کہ آزاد پوڈکاسٹرز کے لیے یہ بہت بڑی جیت ہے، ان کا مواد اب پہلے سے کہیں زیادہ آسانی سے لوگوںتک پہنچےگا۔











