اہم ترین

عالمی موسمیاتی مذاکرات میں فوسل فیولز کی جنگ

برازیل کے صدر لولا ڈا سلوا نے اقوامِ متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس سے قبل عالمی رہنماؤں سے خطاب میں فوسل فیولز پر انحصار ختم کرنے کے لیے زیادہ مضبوط اور ٹھوس منصوبہ بنانے کی اپیل کی، جس کے بعد عالمی سطح پر فوسل فیول مرحلہ وار خاتمے کی بحث نے نئی جان پکڑ لی ہے۔

اس غیرمتوقع سیاسی حمایت نے کوپ 30میں موجود ان ممالک کے اتحاد کو تقویت دی ہے جو فوسل فیولز کے خاتمے کی سمت عملی پیش رفت چاہتے ہیں، اگرچہ اس سلسلے میں تجویز کردہ روڈ میپ ابھی تک باضابطہ ایجنڈے کا حصہ نہیں۔

فرانس، کولمبیا، جرمنی اور کینیا سمیت کئی ممالک اس بات کے لیے کوشاں ہیں کہ فوسل فیولز کا مسئلہ کقپ 30کے مشترکہ مذاکراتی پیکیج میں شامل ہو۔

فرانسیسی وفد کے مطابق تقریباً 50 سے 60 ممالک پہلے ہی اس کوشش کے حامی ہیں، جبکہ ہدف 100 ممالک تک پہنچنے کا ہے۔

یہ تجویز 2023 کی تاریخی دبئی کانفرنس میں منظور شدہ اس فیصلے سے جڑتی ہے جس میں پہلی بار تمام ممالک نے واضح طور پر فوسل فیولز سے دور جانے کی ضرورت کو تسلیم کیا تھا۔

برازیل کی وزیر ماحولیات مارینا سلوا نے اعتراف کیا کہ یہ روڈ میپ منصفانہ اور منصوبہ بند توانائی منتقلی کی مضبوط بنیاد رکھتا ہے۔

کولمبیا نے بیلیم ڈیکلریشن تیار کی ہے جس میں روڈ میپ کی حمایت شامل ہے۔ کولمبیا 2026 میں ایک خصوصی عالمی کانفرنس کی میزبانی کرے گا جس کا مقصد فوسل فیولز کے خاتمے کے عمل کو تیز کرنا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ سفارتی پزل معمہ ہے، کیونکہ کوپ 30کے میزبان برازیل کو اصولی طور پر غیرجانبدار رہنا ہوتا ہے۔ لہٰذا حامی ممالک ایک اتنا مضبوط بلاک بنانا چاہتے ہیں کہ برازیل مجبورا اس ایجنڈے کو آگے بڑھائے۔

ابھی تک مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ تیل پیدا کرنے والے ممالک خصوصاً سعودی عرب ہے۔ تقریباً 70 ممالک کسی بھی نئی دستاویز میں فوسل فیولز کے ذکر کی مخالفت کر رہے ہیں۔

روس کے چیف مذاکرات کار ولادیمر اُسکوف نے طنزیہ انداز میں کہا ترقی یافتہ ممالک کے لیے فوسل فیولز کا خاتمہ اچھا خیال ہو سکتا ہے، لیکن بیلیم جیسے شہروں میں لوگ ابھی تک بجلی اور خوراک جیسی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔

اوپیک نے بھی 2025 اور 2026 کے لیے عالمی تیل کی طلب میں اضافے کی پیشگوئی برقرار رکھی ہے جو اس بحث کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ خود برازیل نے کوپ 30کے آغاز سے چند دن قبل ہی ایمیزون دریا کے دہانے پر نئے تیل کے ذخائر کی کھدائی کی منظوری دے دی جو ماحولیات کے اپنے ہی دعوؤں پر سوال اٹھاتی ہے۔

پاکستان