اہم ترین

رشوت اور کرپشن کا انجام : چین کے اہم سرکاری افسر کو پھانسی دے دی گئی

چین میں بدعنوانی کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے، اور اس بار نشانہ بنا ہے ایک بڑی سرکاری اثاثہ جاتی مینجمنٹ کمپنی کے سابق اعلیٰ اہلکار کو۔ سرکاری میڈیا کے مطابق بائی تیانہوئی، جو چائنا ہوارونگ انٹرنیشنل ہولڈنگز کے جنرل منیجر رہ چکے ہیں، کو رشوت ستانی کے سنگین مقدمے میں سزائے موت دے دی گئی ہے۔

چینی نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق عدالت نے قرار دیا کہ بائی تیانہوئی نے 2014 سے 2018 کے دوران مختلف منصوبوں کی منظوری اور مالی معاونت میں غیرقانونی فائدے پہنچانے کے بدلے 156 ملین ڈالر سے زائد رقم وصول کی۔ حکام کے مطابق بائی کو منگل کی صبح تیانجن میں پھانسی دی گئی، جبکہ اس سے پہلے انہیں اپنے اہلِ خانہ سے آخری ملاقات کا موقع دیا گیا۔ البتہ یہ واضح نہیں کیا گیا کہ سزا کس طریقے سے دی گئی۔

چائنا ہوارونگ انٹرنیشنل ہولڈنگز، ملک کی سب سے بڑی اثاثہ جاتی مینجمنٹ کمپنیوں میں شامل چائنا ہوارونگ ایسٹ مینجمنٹ کی ذیلی ادارہ ہے، جو خاص طور پر خراب قرضوں کے انتظام سے متعلق سرگرمیوں میں مصروف رہتی ہے۔

ہوارونگ گزشتہ کئی برسوں سے صدر شی جن پنگ کی انسدادِ بدعنوانی مہم کے مرکزی ہدفوں میں شامل ہے۔ اس مہم کے تحت کمپنی کے سابق سربراہ لائی شاؤمن کو 2021 میں 253 ملین ڈالر کی رشوت ثابت ہونے پر موت کی سزا سنائی گئی تھی، جبکہ متعدد دیگر عہدیدار بھی تحقیقات اور سزاؤں کا سامنا کر رہے ہیں۔ چین کی جانب سے اس تازہ اقدام نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ حکومت بڑے پیمانے کی مالی بے ضابطگیوں کے خلاف کسی قسم کی نرمی دکھانے کو تیار نہیں۔

پاکستان