اہم ترین

امریکا نے تائیوان کے لیے 11 ارب ڈالر کے اسلحے کی منظوری دے دی

امریکا نے تائیوان کے لیے 11 ارب ڈالر مالیت کے اسلحے کی منظوری دے دی ہے۔ تائیوان نے کہا کہ یہ امریکا سے ان کے ملک کے اب تک کے سب سے بڑے ہتھیاروں کے پیکجز میں سے ایک ہے۔

امریکا نے تائیوان کو ایک مرتبہ پھر بڑے پیمانے پر اسلحہ فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسری بار اقتدار میں آنے کے بعد تائیوان کے لیے دوسری اسلحہ ڈیل ہے۔

اعلان کردہ اسلحہ پیکج میں ہائمرز راکٹ سسٹمز، ہووٹزر توپیں، اینٹی ٹینک میزائل، ڈرونز اور دیگر فوجی سازوسامان شامل ہے۔

یہ ڈیل امریکی کانگریس کی منظوری سے مشروط ہے، تاہم تائیوان کے دفاع پر امریکی سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے کے باعث منظوری کو تقریباً یقینی قرار دیا جا رہا ہے۔

تائیوان کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ یہ ٹرمپ انتظامیہ کی دوسری مدت میں تائیوان کے لیے دوسری اسلحہ فروخت ہے، جو تائیوان کی سلامتی کے لیے امریکہ کے مضبوط عزم کا ثبوت ہے۔

اس ممکنہ ڈیل کی مالیت 2001 میں سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں منظور ہونے والے 18 ارب ڈالر کے پیکج کے قریب بتائی جا رہی ہے، اگرچہ اس وقت بعد میں رقم کم کر دی گئی تھی۔

ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں امریکہ نے تائیوان کو 10 ارب ڈالر سے زائد کا اسلحہ فروخت کیا تھا، جس میں 8 ارب ڈالر کے لڑاکا طیارے بھی شامل تھے۔ حالیہ اسلحہ فروخت کے ذریعے واشنگٹن نے ایک بار پھر تائی پے کو مضبوط دفاعی صلاحیتیں تیار کرنے میں مدد دینے کا عندیہ دیا ہے۔

تائیوان کی حکومت چین کے بڑھتے فوجی دباؤ کے پیشِ نظر دفاعی اخراجات میں تیزی سے اضافہ کر رہی ہے۔ صدر لائی چِنگ-تے کی حکومت نے اگلے سال دفاعی بجٹ کو جی ڈی پی کے 3 فیصد سے زائد اور 2030 تک 5 فیصد تک لے جانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

اس کے علاوہ فضائی دفاع کو مضبوط بنانے اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے ایک ٹریلین تائیوانی ڈالر کی خصوصی فنڈنگ کی تجویز بھی زیر غور ہے، جسے اپوزیشن کے زیرِ کنٹرول پارلیمان کی منظوری درکار ہوگی۔

پاکستان