اہم ترین

بنگلا دیش میں شیخ حسینہ کے خلاف تحریک کےاہم رہنما کی ہلاکت کے بعد ہنگامے

بنگلا دیش میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے والے  انقلاب منچ کے ترجمان اور سرکردہ تحریک کار شریف عثمان ہادی کی موت کے بعد ملک بھر مین پر تشدد ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں۔

انقلاب منچ‘ کے ترجمان اور سرکردہ تحریک کار شریف عثمان ہادی جولائی 2024 کی بغاوت کے دوران قومی سطح پر ابھر کر سامنے آئے تھے، جب شیخ حسینہ حکومت کا تختہ الٹا گیا۔ وہ عوامی لیگ پر آئینی پابندی کے مطالبے کی مہم کا نمایاں چہرہ سمجھے جاتے تھے اور ہند نواز سیاست کے سخت ناقد مانے جاتے تھے۔

گزشتہ ہفتے12 دسمبر کو ڈھاکا کے بجوئے نگر علاقے میں انتخابی مہم کے دوران نامعلوم حملہ آوروں نے شریف عثمان ہادی کو سر میں گولی مار دی تھی۔ شدید زخمی حالت میں انہیں پہلے ڈھاکہ کے ایک اسپتال میں داخل کیا گیا، بعد ازاں 15 دسمبر کو ایئر ایمبولینس کے ذریعے سنگاپور منتقل کیا گیا، جہاں علاج کے دوران ان کی موت ہو گئی۔ گزشتہ روز بنگلا دیش کی وزارتِ خارجہ اور سنگاپور حکام نے ان کی موت کی تصدیق کی تھی۔

شریف عثمان ہادی کی موت کی خبر پھیلتےہی بنگلا دیش میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں۔ ڈھاکا کے کارواں بازار علاقے میں مشتعل مظاہرین نے ملک کے بڑے اخبارات پرتھم آلو اور دی ڈیلی اسٹار کے دفاتر پر حملہ کر دیا۔ عمارتوں میں توڑ پھوڑ کی گئی، فرنیچر اور دستاویزات باہر نکال کر نذرِ آتش کر دی گئیں۔حملے کے وقت متعدد صحافی اور ملازمین دفاتر کے اندر پھنس گئے تھے، جنہیں بعد میں سکیورٹی اہلکاروں نے بحفاظت نکالا۔

تشدد کا دائرہ صرف راجدھانی تک محدود نہ رہا۔ راج شاہی میں مظاہرین نے عوامی لیگ کے ایک دفتر کو آگ لگا دی۔ اسی طرح چٹ گاؤں میں بڑی تعداد میں لوگ ہندوستانی ہائی کمیشن کے دفتر کے باہر جمع ہو گئے، جہاں پتھراؤ کیا گیا اور ہند مخالف و عوامی لیگ مخالف نعرے لگائے گئے۔ ان واقعات کے بعد سکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا۔

صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے ہنگامی اجلاس طلب کیا اور قوم سے خطاب میں امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے جمعہ کے روز قومی سوگ کا اعلان کرتے ہوئے ہادی کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا وعدہ کیا۔ تشدد کے بعد ڈھاکہ، چٹ گاؤں اور راج شاہی میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، تاہم ملک میں کشیدگی تاحال برقرار ہے۔

۔

پاکستان