اہم ترین

توشہ خانہ 2 کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 17،17 سال قید کی سزا

اسلام آباد کی عدالت نے توشہ خانہ 2 کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 10،10 سالہ قید اور جرمانے کی سزا سنادی ہے۔ جب کہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 409 کے تحت دونوں کو سات، سات سال قید الگ سے سنائی گئی ہے۔

عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر الزامات ہیں کہ انھوں نے 2021 میں دورۂ سعودی عرب کے دوران حاصل شدہ بلگاری جیولری سیٹ توشہ خانہ میں جمع نہیں کروایا۔ یہ جیولری سیٹ وزیر اعظم کی اہلیہ کو ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے دیا گیا تھا۔

بلگاری سیٹ میں ایک عدد بریسلٹ، انگوٹھی، جھمکے اور نیکلس بھی شامل تھا۔ سیٹ میں شامل انگوٹھی میں گلابی رنگ کا ہیرا جڑا تھا۔ بریسلٹ میں بھی گلابی ہیرے اور دیگر جواہرات جڑے تھے اور نیکلس میں بھی بیش قیمت موتی اور ہیرے لگے ہوئے تھے۔

ان پر یہ بھی الزام ہے انھوں نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے پرائیویٹ فرم سے سات کروڑ 15 لاکھ روپے سے زائد کے جیولری سیٹ کی قیمت 58 لاکھ روپے لگوائی اور 29 لاکھ روپے ادا کیے۔

توشہ خانہ ٹو کیس کی ابتدائی تحقیقات نیب نے کی تھی اور نیب ترامیم کی روشنی میں یہ کیس ایف آئی اے کو منتقل ہوا تھا۔ ستمبر 2024 میں ایف آئی اے نے تحقیقات کے بعد چالان عدالت میں جمع کروایا تھا۔

اسلام آباد کے اسپیشل جج سینٹرل شاہ رُخ ارجمند نے اڈیالہ جیل میں کیس کا محفوظ فیصلہ سنایا۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا اور ان کی موجودگی میں فیصلہ سنایا گیا۔

کی عدالت نے توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشری بی بی کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 409 کے تحت دونوں کو سات، سات سال قید الگ سے سنائی گئی ہے۔ دونوں ایک کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

توشہ خانہ کے پہلے کیس میں عدالت عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بری کر چکی ہے۔

پاکستان