اہم ترین

زمین کے قریب منڈلاتا خلائی خطرہ! ناسا کا الرٹ

زمین کے گرد گھومنے والے اور سورج کا چکر لگانے والے سیارچے (ایسٹرائیڈز) ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔ ناسا نے چار بڑے سیارچوں کے لیے الرٹ جاری کیا ہے جو زمین کے کافی قریب سے گزرنے والے ہیں۔ اگرچہ ناسا نے کسی ممکنہ ٹکراؤ کی تصدیق نہیں کی، لیکن ان کی جسامت اور رفتار انہیں خطرناک بناتی ہے۔

ایسٹرائیڈ چٹانوں کی طرح پتھریلے خلائی اجسام ہوتے ہیں جو سورج کے گرد گردش کرتے ہیں۔ یہ لاکھوں کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتے ہیں اور بعض اوقات زمین کے کافی قریب آ جاتے ہیں۔ ہمارے نظامِ شمسی میں ہزاروں کی تعداد میں ایسٹرائیڈ موجود ہیں، جن میں سے کئی کو ناسا نے ممکنہ طور پر خطرناک قرار دیا ہے۔

ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے مطابق آج چار ایسٹرائیڈ وائی جی 1 ایکس ٹی 4 ایکس وی 1اور ڈبلیو آر 7 زمین کے قریب سے گزر رہے ہیں

ان میں ڈبلیو آر 7 سب سے بڑا ہے، جس کا سائز تقریباً 220 فٹ بتایا جا رہا ہے۔ اگر اس سائز کا کوئی ایسٹرائیڈ زمین سے ٹکرا جائے تو شدید تباہی مچا سکتا ہے۔

ناسا عام طور پر ان ایسٹرائیڈز کے لیے الرٹ جاری کرتی ہے جو زمین سے 75 لاکھ کلومیٹر کے دائرے میں داخل ہوتے ہیں، کیونکہ اس حد میں زمین کی کششِ ثقل خلائی اجسام کو اپنی طرف کھینچ سکتی ہے۔ تاہم ناسا نے واضح کیا ہے کہ آج گزرنے والے چاروں ایسٹرائیڈز ایک محفوظ فاصلے سے گزریں گے اور کسی ٹکراؤ کا خطرہ نہیں ہے۔

صرف ایسٹرائیڈ ہی نہیں، بلکہ کئی بار شہابیے بھی زمین پر آ گرتے ہیں۔ حال ہی میں امریکہ کی ریاست نیو جرسی کے علاقے ہوپ ویل میں ایک گھر پر شہابیے کا ٹکڑا گرنے کی خبر سامنے آئی تھی، جس کا وزن تقریباً 1.8 کلوگرام بتایا گیا۔ جو شہابیے فضا میں مکمل طور پر جل نہیں پاتے، وہ زمین تک پہنچ جاتے ہیں۔

اگرچہ آج کے ایسٹرائیڈز سے فوری خطرہ نہیں، لیکن خلائی اجسام کی مسلسل نگرانی نہایت ضروری ہے۔ ناسا اور دیگر خلائی ادارے زمین کو ممکنہ خطرات سے بچانے کے لیے مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ خلاء سے آنے والا یہ خاموش خطرہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کائنات میں زمین کتنی نازک ہے

پاکستان