پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر توصیف احمد نے سرفراز احمد کو کوچ بنانے کے فیصلے کو زبردست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہیں کوچ بنایا جاتا ہے تو اس کے ساتھ مکمل اختیار بھی دیا جانا چاہیے تاکہ وہ ٹیم کو درست سمت میں لے جا سکیں۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے توصیف احمد نے کہا کہ سرفراز احمد کی گراؤنڈ میں سختی دراصل کرکٹ اور کرکٹر کی بہتری کے لیے ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میری نظر میں سرفراز احمد، جاوید میانداد کے بعد وہ کھلاڑی ہے جو میدان میں قیادت اور جذبے کی واضح مثال ہے۔
انہوں نے پیرا شوٹرز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ادھر اُدھر سے آکر ٹیم کے معاملات میں مداخلت کرنے والے لوگ کام خراب کرتے ہیں، ٹیم کو ایسے عناصر سے پاک رکھنا ضروری ہے۔
توصیف احمد نے انڈر 19 کرکٹ ٹیم کی شاندار کامیابی کو بھی سراہا اور کہا کہ یہ فتح ہمیں برسوں تک یاد رہے گی، خاص طور پر فائنل میں روایتی حریف بھارت کو شکست دینا باعثِ فخر ہے۔
نوجوان کھلاڑی سمیر منہاس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے توصیف احمد نے کہا کہ سمیر منہاس مستقبل کا ایک روشن ستارہ ہے، تاہم اسے مکمل طور پر گروم ہونے کے لیے ابھی مزید کرکٹ کھیلنا ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جونیئر کھلاڑیوں کو مستقل مواقع دینا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وہ اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔
آخر میں توصیف احمد نے کہا کہ اگر درست فیصلے کیے جائیں اور نوجوان ٹیلنٹ پر بھروسا رکھا جائے تو پاکستان کرکٹ دوبارہ عروج حاصل کر سکتی ہے۔











