اہم ترین

سستا، طاقتور، اوپن سورس: چینی اےآئی موڈیولز امریکی کمپنیوں میں مقبول

چین اور امریکا کے درمیان ٹیکنالوجی کے شعبے میں شدید مقابلے اور سیاسی کشیدگی کے باوجود، چینی اوپن سورس مصنوعی ذہانت (اے آئی ) ماڈلز تیزی سے امریکی پروگرامرز اور کمپنیوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔

یہ ماڈلز، جیسے علی بابا کے قوین اور ڈی سیک، ان کلوزڈ اے آئی سسٹمز سے مختلف ہیں جن میں چیٹ جی پی ٹی یا گوگل جیمنائی شامل ہیں، جہاں سافٹ ویئر کی اندرونی ساخت مکمل طور پر خفیہ ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، اوپن سورس ماڈلز میں ڈویلپرز کو اپنی ضرورت کے مطابق تبدیلی اور بہتری کی آزادی حاصل ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، 2024 کے آخر میں دنیا بھر میں چینی اوپن سورس اے آئی ماڈلز کا استعمال صرف 1.2 فیصد تھا، جو اگست 2025 تک بڑھ کر تقریباً 30 فیصد ہو چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق ان ماڈلز کی مقبولیت کی بڑی وجہ ان کی کم لاگت یا مفت دستیابی اور مؤثر کارکردگی ہے۔ ایک امریکی کاروباری شخصیت کے مطابق، ان کی کمپنی علی بابا کے قوین ماڈلز استعمال کر کے سالانہ چار لاکھ ڈالر کی بچت کر رہی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی چِپ ساز کمپنیاں ان ویدیا ، اے آئی سرچ پلیٹ فارم پرپلیکسیٹی اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی بھی بعض منصوبوں میں قوین ماڈلز استعمال کر رہی ہیں۔

جنوری میں ڈیپ سیک کے کم خرچ مگر طاقتور آر1 ماڈل کی لانچنگ نے اس تصور کو چیلنج کیا کہ بہترین اے آئی صرف امریکی کمپنیوں ہی بنا سکتی ہیں۔ اس پیش رفت کو امریکا کے لیے ایک ٹیکنالوجیکل جھٹکا بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

چین اب اے آئی ایجنٹس کی دوڑ میں بھی شامل ہو چکا ہے یعنی ایسے پروگرام جو چیٹ بوٹس کے ذریعے آن لائن ٹکٹ خریدنے یا کیلنڈر منظم کرنے جیسے کام انجام دیتے ہیں۔

دوسری جانب، امریکی حکومت نے حالیہ اے آئی ایکشن پلان میں امریکی اقدار پر مبنی اوپن موڈیولز کو فروغ دینے کی بات کی ہے، مگر عملی طور پر کئی امریکی کمپنیاں اب بند سسٹمز کی طرف واپس جا رہی ہیں۔

اگرچہ کچھ امریکی کمپنیوں کو چینی اے آئی پر پابندیوں یا پابندیاں لگنے کا خدشہ ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ اوپن سورس ماڈلز میں ڈیٹا شفافیت زیادہ ہوتی ہے، جس سے اعتماد بڑھتا ہے۔

پاکستان