انگلینڈ کے ہیڈ کوچ برینڈن میک کولم نے اعتراف کیا ہے کہ ایشز سیریز سے قبل ٹیم کی تیاری درست نہیں تھی، تاہم ان کا کہنا ہے کہ میلبرن اور سڈنی میں ہونے والے آخری دو ٹیسٹ میچز میں انگلینڈ اب بھی کچھ عزت بچا سکتا ہے۔
انگلینڈ کی ٹیم آسٹریلیا پہنچی تو پُراعتماد تھی کہ وہ 2010-11 کے بعد پہلی بار ایشز سیریز جیت سکتی ہے، مگر یہ خواب جلد ہی بکھر گیا۔ پرتھ اور برسبین میں بدترین شکستوں کے بعد ایڈیلیڈ میں نسبتاً بہتر مقابلہ ہوا، تاہم سیریز 3-0 سے ہاتھ سے نکل چکی ہے۔
میک کولم اور کپتان بین اسٹوکس کے متعارف کردہ جارحانہ اندازِ کھیل بیزبال پر بھی شدید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ انگلینڈ کی ایشز میں شکست محض 11 دن میں طے ہو گئی، جو ایک صدی سے زائد عرصے میں دوسری تیز ترین ناکامی ہے۔
انگلینڈ نے آسٹریلیا میں صرف ایک وارم اپ میچ کھیلا، وہ بھی اپنی ہی لائینز ٹیم کے خلاف، اور پہلا ٹیسٹ دو دن میں ہار گئی۔ سابق کپتان ایئن بوتھم، مائیکل وان اور گراہم گوچ نے ناقص تیاری پر سخت تنقید کی، جبکہ بین اسٹوکس کی جانب سے ناقدین کو ماضی کے لوگ کہنا بھی تنازع کا باعث بنا۔
برسبین میں پنک بال پریکٹس میچ چھوڑنے اور نیٹس میں زیادہ وقت گزارنے کا فیصلہ بھی ناکام رہا۔ میک کولم نے بعد میں تسلیم کیا کہ کہیں کم اور کہیں زیادہ تیاری ٹیم کے نقصان کا سبب بنی۔
ایڈیلیڈ ٹیسٹ کے بعد میک کولم نے کہا جب آپ 3-0 سے ہار جائیں تو یہ ماننا پڑتا ہے کہ تیاری میں غلطی ہوئی۔ ہمیں خود احتسابی کرنی ہوگی اور اگلی بار بہتر ہونا ہوگا۔
چوتھا ٹیسٹ 26 دسمبر کو میلبرن میں شروع ہوگا، جہاں ٹیم میں تبدیلیوں کا امکان ہے۔ اولی پوپ کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے اور جیکب بیتھل کو موقع مل سکتا ہے، تاہم میک کولم نے واضح کیا کہ اسکواڈ سے باہر کسی کھلاڑی کو شامل نہیں کیا جائے گا۔
اگرچہ انگلینڈ تینوں ٹیسٹ میں آؤٹ کلاس رہا، مگر ایڈیلیڈ میں 435 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے ٹیم نے بہتر مزاحمت دکھائی، جسے میک کولم مستقبل کے لیے مثبت اشارہ قرار دے رہے ہیں۔











