اہم ترین

ترکیہ کی پارلیمنٹ میدانِ جنگ بن گئی، بجٹ ووٹنگ سے پہلے گھونسوں کی بارش

ترکیہ کی سیاست ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئی، مگر اس بار تقاریر یا نعروں کی وجہ سے نہیں بلکہ مکوں اور دھکم پیل کے باعث۔ ترکیہ کی گرینڈ نیشنل اسمبلی (ٹی بی ایم ایم) میں 2026 کے بجٹ پر ووٹنگ سے چند لمحے قبل ایسا ہنگامہ برپا ہوا کہ ایوانِ پارلیمان کشتی کے اکھاڑے کا منظر پیش کرنے لگا۔

واقعہ اس وقت شروع ہوا جب اپوزیشن جماعت سی ایچ پی کے گروپ ڈپٹی چیئرمین مرات امیر اپنی نشست چھوڑ کر صدر اردوان کی جماعت اے کے پارٹی کے رکن مصطفیٰ ورنک کے پاس جا پہنچے۔ ابتدا میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، مگر دیکھتے ہی دیکھتے بات ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔

پھر کیا تھا! ایک رکن گرا تو دوسرا لپکا، چند لمحوں میں اے کے پارٹی اور سی ایچ پی کے تمام اراکین میدان میں کود پڑے۔ تقریباً دس منٹ تک ایوان میں مکوں، دھکم پیل اور شور شرابے کا ایسا طوفان برپا رہا کہ اسپیکر نعمان کرتلمش کو کارروائی معطل کرنا پڑی۔

کچھ اراکین نے بیچ بچاؤ کی کوشش ضرور کی، مگر ہنگامہ اس قدر شدید تھا کہ امن کی ہر کوشش ناکام ہوتی نظر آئی۔ اس دوران ایک تصویر سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی جس میں ایم ایچ پی کے اراکین اپنے سربراہ دولت باہچیلی کو گھیر کر انسانی ڈھال بنائے کھڑے نظر آئے — گویا سیاست نہیں، کوئی جنگی محاذ ہو۔

’ایکول ٹی وی‘ کے مطابق، مصطفیٰ ورنک اپنی بات رکھنا چاہتے تھے کہ اسی دوران اپوزیشن رہنما الہامی ایگون اور مرات امیر ان تک پہنچ گئے اور بات ہاتھا پائی میں بدل گئی۔ اس کے بعد دونوں جانب سے ہنگامہ شروع ہو گیا، مگر حیران کن طور پر اسی شور شرابے کے بیچ حکومت نے بجٹ بل منظور بھی کرا لیا۔

بعد ازاں حالات کچھ سنبھلے تو پارلیمنٹ کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی اور ووٹنگ کرائی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ 249 مخالفتی ووٹوں کے مقابلے میں 320 حمایت میں ووٹ پڑے اور یوں 2026 کا بجٹ منظور ہو گیا۔

پاکستان