اہم ترین

اب تک کی جدید ترین مائیکرو چپ: 2 نینو میٹر چپ نے تاریخ رقم کر دی

دنیا میں مائیکروچِپ بنانے والی کی سب سے بڑی کمپنی تائیوان سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کمپنی (ٹی ایس ایم سی) نے 2 نینو میٹر (2 ایم ایم) چِپس کی بڑے پیمانے پر پیداوار شروع کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈیٹا سینٹرز، اسمارٹ فونز اور خودکار گاڑیوں کے مستقبل کو بدل دے گی۔

اے ایف پی کے مطابق ٹی ایس ایم سی کی تیار کردہ 2 نینو میٹر (2 ایم ایم) چِپس 2024 اور اس کے بعد کی ٹیکنالوجی میں ایک اہم سنگِ میل سمجھی جا رہی ہیں۔

یہ 2 نینو میٹر چپس کیا کر سکتی ہیں

وقت کے ساتھ چپس میں لگے انتہائی باریک الیکٹرانک پرزے (ٹرانزسٹرز) بڑھتے جا رہے ہیں، جس سے کمپیوٹنگ پاور میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔

ٹی ایم ایس سی کی تیارکردہ یہ 2این ایم چپ پہلے کے مقابلے میں زیادہ طاقتور اور کم توانائی خرچ کرتی ہیں۔ اور ایک ہی چِپ میں زیادہ ٹرانزسٹرز سمو سکتی ہیں۔

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی آئی بی ایم کے مطابق یہ چپس لیپ ٹاپس کو مزید تیز بنائیں گی۔ ڈیٹا سینٹرز کے کاربن اخراج میں کمی کریں گی اور خودکار گاڑیوں کو رکاوٹیں زیادہ تیزی سے پہچاننے میں مدد دیں گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی چیٹ جی پی ٹی جیسے اےآئی ماڈلز کو بھی زیادہ مؤثر اور تیز چلانے میں مدد دے گی۔

یہ 2این ایم چپس کون بنا سکتا ہے

ماپرین کےمطابق 2 این ایم چپس بنانا انتہائی مشکل اور مہنگا کام ہے، جس کے لیے جدید لیتھوگرافی مشینیں، گہرا تکنیکی علم اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ضروری ہوتی ہے۔

دنیا میں صرف چند کمپنیاں یہ صلاحیت رکھتی ہیں، جن میں ٹی ایم ایس سی سب سے آگےہے۔ اس کےعلاوہ سام سنگ اور انٹیل بھی یہ کام کررہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق سام سنگ اور انٹیل ابھی پیداوار کے معیار کو بہتر بنانے کے مرحلے میں ہیں، جبکہ ٹی ایم ایس سی واضح برتری رکھتی ہے۔

جاپان کی کمپنی ریپیڈس بھی 2027 تک 2 این ایم چپس کی پیداوار کا ارادہ رکھتی ہے۔

سیاسی اور جغرافیائی اثرات

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2 این ایم ٹیکنالوجی صرف سائنسی نہیں بلکہ اسٹریٹجک اور سیاسی اہمیت بھی رکھتی ہے۔

تائیوانی حکام نے حال ہی میں 3 افراد پر 2 این ایم چِپ ٹیکنالوجی کے راز چرانے کا الزام عائد کیا۔

ٹی ایم ایس سی نے چین کی مشینری استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ ممکنہ امریکی پابندیوں سے بچا جا سکے۔ کمپنی امریکا میں بھی 2 این ایم چپس کی پیداوار بڑھانے کا منصوبہ رکھتی ہے، جو دہائی کے آخر تک متوقع ہے۔

نینو میٹر آخر کتنا چھوٹا ہے؟

یہ تصور سے بھی زیادہ باریک ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سےلگایا جاسکتا ہے کہ ایک ایٹم تقریباً 0.1 نینو میٹر ہوتا ہے۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ دراصل سائز نہیں بلکہ ٹرانزسٹرز کی کثافت کا پیمانہ ہے

آئی بی ایم کے مطابق ناخن کے سائز کی ایک 2 این ایم چِپ میں 50 ارب تک ٹرانزسٹرز اور وائرس سے بھی چھوٹے پرزے فٹ کیے جا سکتے ہیں۔

اس سے بھی آگے کا سفر

ٹی ایم ایس سی کا کہنا ہےکہ 2این ایم کی کامیاب تیاری کے بعد اب 1.4 نینو میٹر ٹیکنالوجی پر کام ہورہا ہے، جس کی بڑے پیمانے پر پیداوار 2028 کے آس پاس متوقع ہے۔ سام سنگ اور انٹیل بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں۔

جاپان کی ریپیڈس کے مطابق 2 این ایم چپس اے آئی سرورز کے لیے بہترین ہیں اور یہ آنے والے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بنیاد بنیں گی۔

پاکستان