آسٹریلیا کے تجربہ کار بلے باز عثمان خواجہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایشیز سیریز کے آخری ٹیسٹ میچ کے بعد بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہو جائیں گے۔ یہ میچ سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا، جو ان کے کیریئر کے آغاز اور اختتام دونوں کا گواہ بنے گا۔
39 سالہ عثمان خواجہ اپنے آخری ٹیسٹ میں 87 میچز، 6206 رنز اور 16 سنچریوں کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔ ریٹائرمنٹ کے اعلان کے موقع پر انہوں نے کہا کہ وہ کچھ عرصے سے اس فیصلے پر غور کر رہے تھے اور ایشیز سیریز شروع ہونے سے قبل ہی انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ ان کی آخری سیریز ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس بارے میں انہوں نے اپنی اہلیہ ریچل سے بھی تفصیل سے بات کی۔
عثمان خواجہ کا کہنا تھا کہ وہ عزت اور وقار کے ساتھ، اپنی مرضی سے کرکٹ کو الوداع کہنا چاہتے تھے اور اس کے لیے ایس سی جی سے بہتر کوئی جگہ نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ سیریز کے آغاز میں کچھ مشکل لمحات آئے، خاص طور پر ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں ابتدا میں منتخب نہ ہونا ان کے لیے واضح اشارہ تھا کہ اب آگے بڑھنے کا وقت آ گیا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ دو برسوں میں کئی بار ریٹائرمنٹ کا خیال آیا اور اس بارے میں انہوں نے ہیڈ کوچ اینڈریو میکڈونلڈ سے بھی بات کی تھی۔ خواجہ کے مطابق انہوں نے کوچ کو صاف کہہ دیا تھا کہ اگر ٹیم کو ان کی ضرورت نہ ہو تو وہ فوراً ریٹائر ہونے کے لیے تیار ہیں، لیکن کوچ نے انہیں سری لنکا سیریز اور ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے لیے ٹیم میں برقرار رہنے پر زور دیا۔
عثمان خواجہ نے واضح کیا کہ بین الاقوامی کرکٹ چھوڑنے کے بعد وہ بگ بیش لیگ میں برسبین ہیٹ کی نمائندگی جاری رکھیں گے اور امید ہے کہ شیفیلڈ شیلڈ میں کوئنز لینڈ کے لیے بھی کھیلتے رہیں گے۔
یاد رہے کہ عثمان خواجہ نے 2010-11 میں انگلینڈ کے خلاف اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ بعد ازاں ایک طویل وقفے کے بعد 2021-22 کی ایشیز میں شاندار واپسی کرتے ہوئے دو سنچریاں اسکور کیں، جس کے بعد وہ ٹیم کے مستقل رکن بن گئے اور اوپننگ کی ذمہ داری سنبھالی۔ اگرچہ حالیہ عرصے میں ان کی فارم میں کمی آئی، تاہم سری لنکا کے خلاف گالے میں 232 رنز کی اننگز ان کے کیریئر کی بہترین اننگز ثابت ہوئی۔
کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹو ٹوڈ گرینبرگ نے عثمان خواجہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہ صرف میدان میں شاندار کارکردگی دکھائی بلکہ فلاحی کاموں کے ذریعے بھی آسٹریلوی کرکٹ کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔
عثمان خواجہ کے ریٹائرمنٹ کے بعد امکان ہے کہ آسٹریلیا کو مستقبل میں ایک نئے مستقل اوپنر کی تلاش کرنا پڑے، خاص طور پر اگست میں بنگلہ دیش کے خلاف آئندہ ٹیسٹ سیریز سے قبل۔











