آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے سینئر بلے باز عثمان خواجہ نے کہا ہے کہ ایشیز سیریز کے آغاز میں کمر کی انجری پر انہیں جس تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اس میں نسلی تعصب کی جھلک موجود تھی اور یہ رویہ ان کے پورے کیریئر میں ان کے ساتھ روا رکھا گیا۔
سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں 50 منٹ طویل پریس کانفرنس کے دوران، جہاں انہوں نے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا، عثمان خواجہ نے پہلی بار کھل کر اس معاملے پر بات کی۔ ان کے ساتھ اس موقع پر ان کی اہلیہ، بچے، والدین اور دیگر قریبی رشتہ دار بھی موجود تھے۔
عثمان خواجہ کا کہنا تھا کہ ایشیز کے آغاز سے قبل پرتھ ٹیسٹ سے پہلے گالف کھیلنے اور بعد ازاں کمر کی تکلیف کے باعث اوپننگ نہ کر پانے پر میڈیا اور سابق کھلاڑیوں نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جو صرف کھیل تک محدود نہیں رہی بلکہ ان کی نیت، کردار اور کمٹمنٹ پر سوال اٹھائے گئے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں خودغرض، سست، غیر سنجیدہ اور ٹیم کے لیے غیر مخلص جیسے الفاظ کا سامنا کرنا پڑا، جو وہ اپنی زندگی بھر سنتے آئے ہیں۔ ان کے مطابق یہی وہ نسلی دقیانوسی تصورات ہیں جن کا سامنا ایک رنگ دار کھلاڑی کو کرنا پڑتا ہے، جبکہ اسی نوعیت کی غلطیوں یا سرگرمیوں پر دیگر کھلاڑیوں کو کبھی اس شدت سے تنقید کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
عثمان خواجہ نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں کئی آسٹریلوی کھلاڑی گالف کھیلتے ہوئے یا دیگر سرگرمیوں کے دوران زخمی ہوئے، لیکن ان پر سوال نہیں اٹھائے گئے۔ ان کے مطابق کچھ کھلاڑیوں کے زخمی ہونے کو ’’آسٹریلوی لڑکوں‘‘ کی شرارت قرار دے کر نظر انداز کیا گیا، جبکہ ان کے معاملے میں ان کی ساکھ پر حملہ کیا گیا۔
انہوں نے گزشتہ سیزن کے شیفیلڈ شیلڈ میچ سے غیر حاضری اور فارمولا ون گراں پری میں شرکت پر ہونے والی تنقید کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ اسی دوران دیگر کھلاڑیوں کی غیر موجودگی کو نظر انداز کر دیا گیا، جس سے انہیں احساس ہوا کہ ان کے ساتھ مختلف سلوک کیا جاتا ہے۔
عثمان خواجہ نے کہا کہ وہ یہ باتیں اس لیے سامنے لا رہے ہیں تاکہ مستقبل میں آنے والے کسی اور عثمان خواجہ کو اس طرح کے تعصب کا سامنا نہ کرنا پڑے اور تمام کھلاڑیوں کو یکساں نظر سے دیکھا جائے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی پس منظر سے ہو۔











