ایک نئی بین الاقوامی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ تخلیقی سرگرمیوں میں باقاعدہ حصہ لینا دماغی عمر کو سست کر سکتا ہے اور بڑھاپے میں یادداشت، توجہ اور ذہنی صلاحیتوں کے زوال کو مؤخر کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق آرٹس اینڈ کرافٹس، رقص، موسیقی بجانا، مصوری، مطالعہ، باغبانی اور حتیٰ کہ اسٹریٹیجی ویڈیو گیمز کھیلنا بھی دماغی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔
نیچر کمیونی کیشن نامی تحقیقی سائنسی جریدے میں شائع تحقیق کے لئے 13 ممالک کے 1400 سے زائد افراد کے دماغی ڈیٹا اور نیورو امیجنگ رپورٹس کا تجزیہ کیا گیا۔ شرکاء میں ٹینگو ڈانس کے ماہرین، موسیقار، مصور ، بصری فنکاراور پیچیدہ اسٹریٹیجی ویڈیو گیمز کھیلنے والے افراد شامل تھے۔
سائنسدانوں نے ایک جدید کمپیوٹیشنل ٹیکنالوجی برین کلاک استعمال کی، جو ای ای جی اور ایم ای جی کے ذریعے دماغی سرگرمی دیکھ کر یہ اندازہ لگاتی ہے کہ دماغ بظاہر کتنی عمر کا لگتا ہے۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق تخلیقی سرگرمیوں کے ماہر افراد کا دماغ اوسطاً 4 سے 7 سال کم عمر دکھائی دیا۔ سب سے زیادہ فائدہ دماغ کے اُن حصوں میں دیکھا گیا جو توجہ، فیصلہ سازی اور ہم آہنگی سے متعلق ہیں۔ یہ فائدہ صرف فنونِ لطیفہ تک محدود نہیں بلکہ **اسٹریٹیجی ویڈیو گیمز میں بھی دیکھا گیا
تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ صرف 30 گھنٹوں کی تربیت (مثلااسٹار کرافٹ جیسے گیم کھیلنا) سے بھی دماغی عمر میں تقریباً تین سال کی کمی دیکھی گئی۔
تحقیق کی شریک مصنفہ پولینڈ کی ایس ڈبلیو پی ایس یونیورسٹی سے وابستہ ماہرِ نفسیات ڈاکٹر انیتا بریزیٹسکا کے مطابق جیسے جیسے دنیا کی آبادی عمر رسیدہ ہو رہی ہے، ویسے ویسے یادداشت کی کمزوری اور ڈیمنشیا جیسے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے، جو نہ صرف صحت کے نظام بلکہ خاندانوں اور تیمارداروں کے لیے بھی ایک بڑا بوجھ ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر روزمرہ زندگی میں ایسی سرگرمیوں کی نشاندہی ہو جائے جو دماغ کو طویل عرصے تک جوان رکھ سکیں، توذہنی بیماریوں کے آغاز کو مؤخر کیا جا سکتا ہے اور زندگی کے معیار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر بریزیٹسکا کے مطابق اگر برین کلاک کے مطابق دماغ کی عمر حقیقی عمر سے کم نکلے تو اس کا مطلب ہے کہ دماغ سست رفتاری سے بوڑھا ہو رہا ہے۔ اسی فرق کو برین ایج گیپ کہا جاتا ہے۔
امریکا کے معروف نیورو سائیکالوجسٹ ڈاکٹر رافیل والڈ کے مطابقآ ذہانت صرف ریاضی یا تحریر تک محدود نہیں، تخلیقیت انسان کو نئے زاویوں سے سوچنا سکھاتی ہے، جو دماغی صحت کے لیے نہایت ضروری ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ وہ سرگرمی منتخب کریں جو خوشی اور تجسس پیدا کرے، کمیونٹی سینٹرز، لائبریریز اور آن لائن کلاسز سے فائدہ اٹھائیں اور چھوٹے قدم سے آغاز کریں۔ کیونکہ فائدہ مہارت میں نہیں، کوشش میں ہے۔











