کئی ترقی یافتہ ممالک کی طرح آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک چین اپنی پالیسی کی وجہ سے آبادی کے شدید بحران کا شکار ہوگیا ہے۔
اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق چین میں ایک بچہ پالیسی ختم ہوئے دس سال گزر چکے ہیں، مگر اس کے باوجود ملک ایک شدید آبادیاتی بحران کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق چین کی آبادی جو اس وقت تقریباً 1.4 ارب ہے، وہ صدی کے اختتام تک کم ہو کر 63 کروڑ 30 لاکھ رہ جانے کا خدشہ ہے۔
حیران کن طور پر 2024 میں چین میں صرف 95 لاکھ بچے پیدا ہوئے، جو 2016 کے مقابلے میں آدھے سے بھی کم ہیں۔ مسلسل تین سال سے آبادی میں کمی نے حکومت اور ماہرین دونوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
چین میں نوجوان جوڑوں میں دو کمائیاں، مگر بچے نہیں،، کا رجحان تیزی سے پھیل رہا ہے۔ یہ اصطلاح چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہو چکی ہے، جہاں اس ہیش ٹیگ کو 73 کروڑ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے۔
گریس نامی ایک نوجوان خاتون کانٹینٹ کری ایٹر کہتی ہیں کہ جب تک اچھی آمدن اور معقول بچت نہ ہو، میں بچوں کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی۔
حکومت کی کوششیں، مگر نتیجہ صفر
چینی حکومت نے شرحِ پیدائش بڑھانے کے لیے تین سال سے کم عمر ہر بچے پر سالانہ 500 ڈالر کی سبسڈی، کنڈوم اور مانع حمل اشیا پر اضافی ٹیکس اور تین بچوں کی اجازت جیسے کئی اقدامات کئے ہیں ۔ مگر ماہرین کے مطابق یہ اقدامات ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔
چینی ماہرِ آبادیات کے مطابق نوجوان نسل میں شادی اور بچوں کی خواہش کمزور پڑ چکی ہے۔ کئی عشروں تک سختی سے نافذ ایک بچہ پالیسی نے خاندانی سوچ اور طرزِ زندگی کو اس حد تک بدل دیا ہے کہ اب لوگ خود ہی چھوٹے خاندان کو ترجیح دیتے ہیں۔ لوگ اب بڑے خاندان کو نہ ضرورت سمجھتے ہیں، نہ خواہش۔
چین میں مشہور 996 ورک کلچر (صبح 9 سے رات 9 بجے تک، ہفتے میں 6 دن) بھی بچوں سے دوری کی بڑی وجہ بن چکا ہے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر چین میں شرحِ پیدائش 1.0 کے آس پاس ہی رہی تو آبادی تیزی سے بوڑھی ہو جائے گی۔ بزرگوں کی دیکھ بھال کا بوجھ بڑھے گا اور معیشت اور قومی طاقت کمزور پڑ سکتی ہے۔











