آن لائن ٹیکسی سروس اور وہیکل شیئرنگ سروس اوبر نے ڈرائیور کے بغیر چلنے والی روبوٹیکسی کو اپنے عالمی رائیڈ شیئرنگ پلیٹ فارم میں شامل کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کا آغاز سان فرانسسکو سے کیا جا رہا ہے جہاں گوگل کی ملکیت وی مو پہلے ہی اس میدان میں سرگرم ہے۔ اوبر کی یہ نئی روبوٹیکسی جدید خودکار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی کی حامل ہو گی، جو ایک اشتراک کے تحت تیار کی جا رہی ہے۔
اوبر کی روبوٹیکسی خودکار ڈرائیونگ کمپنی نیورو اور الیکٹرک گاڑی ساز ادارے لوسیڈ کے تعاون سے تیار کی گئی ہے، جبکہ اس کا دماغ دنیا کی بڑی اے آئی چپ ساز کمپنی این ویڈیا فراہم کر رہی ہے۔ اس اشتراک کے تحت اوبر اور این ویڈیا 2027 سے ایک لاکھ روبوٹیکسیوں کو سروس میں لانے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔
لوسیڈ گریوٹی روبوٹیکسی میں چھ مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہو گی اور کیبن کے اندر اوبر کے تیار کردہ جدید انٹرایکٹو اسکرینز نصب ہوں گی، جن کے ذریعے مسافر سیٹ ہیٹر، درجۂ حرارت، موسیقی اور دیگر سہولیات کنٹرول کر سکیں گے۔ ہنگامی صورت میں مسافر گاڑی کو روکنے یا سپورٹ ٹیم سے رابطہ بھی کر سکیں گے۔
روبوٹیکسی کی سڑکوں پر آزمائشی ڈرائیونگ گزشتہ ماہ شروع ہو چکی ہے، تاہم حفاظتی طور پر ڈرائیور موجود ہیں۔ ریگولیٹری منظوری ملنے کے بعد اوبر اس سروس کو رواں سال کے آخر میں باضابطہ طور پر شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق خودکار سواری کا یہ نیا قدم شہری سفر کے انداز کو بدل سکتا ہے، جبکہ سان فرانسسکو میں پہلے سے مقبول وی مو روبوٹیکسیوں کے مقابلے نے اس ٹیکنالوجی کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے











