آسٹریلیا نے انگلینڈ کے خلاف پانچواں اور آخری ایشز ٹیسٹ پانچ وکٹوں سے جیت کر سیریز 4-1 سے اپنے نام کر لی۔ سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے گئے اس میچ کے ساتھ ہی ایک طویل اور سخت مقابلوں پر مشتمل سیریز اختتام پذیر ہوئی، جبکہ ریٹائر ہونے والے عثمان خواجہ کو شاندار فتح کے ساتھ الوداع کہا گیا۔
آسٹریلیا کو جیت کے لیے 160 رنز کا ہدف ملا تھا، جو اس نے پانچویں دن لنچ کے بعد حاصل کر لیا۔ کیمرون گرین 22 اور ایلکس کیری 16 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ کیری نے فاتحانہ رنز اسکور کیے۔
ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا کو ابتدا میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ٹریوس ہیڈ (29)، جیک ویترالڈ (34)، کپتان اسٹیو اسمتھ (12) اور عثمان خواجہ (6) آؤٹ ہو گئے۔ یہ عثمان خواجہ کا ٹیسٹ کیریئر کا آخری میچ تھا، جو 88 ٹیسٹ میچز پر مشتمل رہا۔
مارنس لبوشین، جنہیں 20 رنز پر زندگی ملی تھی، 37 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوئے، جس سے انگلینڈ کو وقتی امید ملی، تاہم میچ پر آسٹریلیا کی گرفت برقرار رہی۔
اس سے قبل انگلینڈ کی ٹیم اپنی دوسری اننگز میں 342 رنز پر آؤٹ ہو گئی، جس میں جیکب بیتھل کی شاندار 154 رنز کی اننگز نمایاں رہی۔ وہ سیریز میں انگلینڈ کی جانب سے واحد بڑی انفرادی کارکردگی ثابت ہوئی۔
انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس نے میچ کے بعد کہا کہ آسٹریلیا پوری سیریز میں بہتر ٹیم رہی اور انہوں نے فیصلہ کن لمحات میں عمدہ کارکردگی دکھائی۔
یہ سیریز انگلینڈ کے لیے مجموعی طور پر مایوس کن رہی، جنہیں پہلے تین ٹیسٹ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ میلبورن ٹیسٹ میں انگلینڈ نے شاندار واپسی کرتے ہوئے فتح حاصل کی، مگر سڈنی میں شکست کے ساتھ ان کا دورہ اختتام کو پہنچا۔
سیریز کے دوران تقریباً 8 لاکھ 60 ہزار شائقین نے میچز دیکھے، جبکہ سڈنی ٹیسٹ میں 2 لاکھ 11 ہزار سے زائد تماشائی اسٹیڈیم پہنچے، جو ایک ریکارڈ ہے۔











