اہم ترین

انسانی ارتقا کا سراغ:ساڑھے7 لاکھ سال سے پرانےڈھانچوں نے کئی رازکھول دیئے

انسانی نسل کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟ اس قدیم سوال کا جواب ایک بار پھر افریقا کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ مراکش میں دریافت ہونے والے ساڑھے سات لاکھ سال سے زائد پرانے فوسلز نے اس نظریے کو مضبوط کیا ہے کہ ہومو سیپینز (جدید انسان) کی ابتدا افریقا ہی میں ہوئی۔

سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ فوسلز مراکش کے شہر کاسابلانکا کے قریب ایک غار سے ملے، جن میں ریڑھ کی ہڈیاں، دانت اور جبڑوں کے حصے شامل ہیں۔ ان فوسلز کی دریافت اگرچہ 1969 میں ہوئی تھی، مگر اب جدید سائنسی طریقوں سے ان کی عمر کا درست تعین ممکن ہو سکا ہے۔

اس تحقیق سے قبل افریقا میں اس دور کے انسانی فوسلز کی کمی کو ایک بڑا خلا سمجھا جاتا تھا۔ ماہرین کے مطابق انسانوں اور ان کے قریبی رشتہ داروں، جیسے نینڈرتھلز اور ڈینیسووانز، کے درمیان ارتقائی تقسیم تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار سے 7 لاکھ 50 ہزار سال قبل ہوئی تھی۔

تحقیق کے سربراہ اور فرانسیسی ماہرِ بشریات ژاں ژاک ہبلین کے مطابق کاسابلانکا سے ملنے والا ایک نچلا جبڑا، جو 2008 میں دریافت ہوا، خاص طور پر حیران کن تھا کیونکہ اس دور کے انسانوں میں عام طور پر اس قدر باریک جبڑا نہیں پایا جاتا۔

بالآخر سائنس دانوں نے زمین کے مقناطیسی میدان کے بدلاؤ کی مدد سے ان فوسلز کی عمر کا تعین کیا۔ زمین کا مقناطیسی میدان آخری بار تقریباً 7 لاکھ 73 ہزار سال قبل تبدیل ہوا تھا، اور فوسلز اسی دور کی زمینی تہوں میں ملے، جس سے ان کی تاریخ نہایت درست انداز میں معلوم ہو سکی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت اس بات کا مضبوط ثبوت ہے کہ ہومو سیپینز اور ان کے قدیم رشتہ داروں کی مشترکہ ابتدا افریقا میں ہوئی۔ تحقیق میں شامل نہ ہونے والے ہسپانوی ماہر انتونیو روزاس کے مطابق یہ دریافت اس تصور کو مزید تقویت دیتی ہے کہ انسانی ارتقا افریقا سے ہی شروع ہوا اور ممکن ہے یہ عمل پہلے کے اندازوں سے بھی زیادہ قدیم ہو۔

تحقیق یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ شمالی افریقا اور جنوبی یورپ کے درمیان قدیم زمانے میں انسانی نقل و حرکت ممکن تھی، خاص طور پر اس وقت جب سمندر کی سطح کم تھی۔

پاکستان