اہم ترین

روبوٹکس : 179 ارب ڈالر کی صنعت خودمختار روبوٹس کی تیاری میں اب بھی بہت دور

لاس ویگاس میں جاری سالانہ ٹیک نمائش کنزیومر الیکٹرونکس شو (سی ای سی ) میں انسان نما روبوٹس نے رقص، قلابازیاں، بلیک جیک کھیلنے اور پنگ پونگ سے تو خوب توجہ حاصل کی، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف کرتب دکھانا کافی نہیں، روبوٹس حقیقی اور عملی کام بھی کریں۔

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق صنعتی ماہرین کا ماننا ہے کہ انسان جیسے خودمختار روبوٹس کی تیاری میں ابھی کئی سال لگ سکتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ اے آئی اور لینگویج ماڈلز، جیسے چیٹ جی پی ٹی، دیکھنے اور سننے کو عملی حرکات میں بدلنے کی مکمل صلاحیت نہیں رکھتے، جو گھریلو یا صنعتی ماحول میں ضروری ہے۔

کارنیگی میلون یونیورسٹی کی ماہر ہینی ایڈمونی کے مطابق اگر آپ روبوٹس کو انسانی کام سکھانا چاہتے ہیں تو انہیں جسم کے اندر سیکھنے کا موقع دینا ہوگا۔

ماہرین نے اسے ایسے قرار دیا جیسے کسی بچے کو کمرے میں بند کر کے دنیا سکھانے کی کوشش کی جائے۔

چین کی کمپنی انجن اے آئی کے بانی ایون یاؤ کے مطابق وہ ایمیزون اور میٹا جیسی بڑی امریکی کمپنیوں کے ساتھ مل کر روبوٹس کو بہتر اے آئی دماغ دینے پر کام کر رہے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ روبوٹس کبھی مکمل انسان نہیں بن سکتے، کیونکہ انسان جذبات رکھتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ روبوٹس کا اصل مستقبل فیکٹریوں اور گوداموں میں ہے، جہاں ماحول قابو میں ہوتا ہے۔ اندازوں کے مطابق عالمی روبوٹ مارکیٹ 2030 تک 179 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

تاہم، ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ کئی کمپنیاں جن خودمختار روبوٹس کا دعویٰ کر رہی ہیں، وہ درحقیقت انسانی کنٹرول میں چلتے ہیں۔ مکمل خودکار روبوٹس کے لیے حقیقی دنیا میں تربیت ناگزیر ہے۔

ماہرین کا دوٹوک مؤقف ہے کہ روبوٹس کو عام مشین بنانے کے لیے انہیں لیبارٹری سے نکال کر حقیقی دنیا میں لانا ہوگا۔

پاکستان