اہم ترین

پی ایس ایل میں بڑی تبدیلی:اب کھلاڑی سلیکٹ نہیں نیلام ہوں گے

پی ایس ایل کا گیارہواں ایڈیشن صرف میدان میں ہی نہیں، بلکہ انتظامی سطح پر بھی ایک بالکل نیا روپ اختیار کرنے جا رہا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ ٹورنامنٹ کے ڈھانچے میں زبردست اور انقلابی تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن پر عملدرآمد 26 مارچ سے شروع ہونے والے پی ایس ایل 11 سے ہوگا۔ مقصد صاف ہے: مقابلہ مزید سخت، ٹیمیں مزید متوازن اور کھلاڑی مزید فائدے میں۔

سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ اب کھلاڑیوں کا انتخاب روایتی ڈرافٹ کے بجائے آکشن کے ذریعے ہوگا۔ یعنی اب بولی لگے گی، قیمت بڑھے گی اور کھلاڑیوں کی کمائی کے دروازے مزید کھلیں گے۔ انتظامیہ کا خیال ہے کہ اس طریقے سے ہر ٹیم کو برابری کی بنیاد پر مضبوط اسکواڈ بنانے کا موقع ملے گا۔

نئے سسٹم میں کئی پرانے اصولوں کو خیرباد کہہ دیا گیا ہے۔اب نہ مینٹورز ہوں گے، نہ برانڈ ایمبیسڈر اور نہ ہی رائٹ ٹو میچ (آر ٹی ایم ) جیسی سہولت۔ کھیل ہوگا صرف میدان میں اور فیصلے ہوں گے خالص کرکٹ کی بنیاد پر۔

آکشن سے پہلے ہر فرنچائز کو چار کھلاڑی برقرار رکھنے کی اجازت ہوگی، لیکن شرط یہ ہے کہ ہر کیٹیگری سے صرف ایک ہی کھلاڑی رکھا جا سکے گا۔ نئی شامل ہونے والی دونوں فرنچائزز کو بھی یہی سہولت دی گئی ہے تاکہ وہ بھی مضبوط آغاز کر سکیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر ٹیم کو ایک بین الاقوامی کھلاڑی ڈائریکٹ سائن کرنے کی اجازت ہوگی، لیکن وہ کھلاڑی پی ایس ایل 2025 کا حصہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہر فرنچائز کے لیے سیلری کیپ 16 لاکھ امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے، تاکہ مالی توازن برقرار رہے۔

پی ایس ایل 11 کا آغاز 26 مارچ سے ہوگا اور اس بار شائقین کو فیصل آباد کے اقبال اسٹیڈیم میں بھی میچز دیکھنے کا موقع ملے گا، جو ٹورنامنٹ میں مزید رنگ بھر دے گا۔

مختصر یہ کہ پی ایس ایل 11 صرف ایک نیا سیزن نہیں، بلکہ ایک نیا تجربہ ہونے جا رہا ہے — زیادہ ڈرامہ، زیادہ مقابلہ اور زیادہ تفریح

پاکستان