اہم ترین

کرکٹ یا سیاست؟ ٹی20 ورلڈ کپ کیلئے پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کے ویزوں پر بڑا موڑ

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ٹی20 ورلڈ کپ 2026 سے قبل ایک اہم اور حساس معاملے پر عملی قدم اٹھا لیا ہے۔ ٹورنامنٹ کی مشترکہ میزبانی انڈیا اور سری لنکا کریں گے، اور اسی تناظر میں آئی سی سی پاکستانی نژاد کھلاڑیوں اور آفیشلز کے لیے انڈین ویزوں کے مسئلے کو حل کرنے میں سرگرم ہو گئی ہے۔

بھارت اور سری لنکا کی میزبانی میں شیڈول ٹی 20 ورلڈ کپ میں ایک ماہ سے بھی کم وقت رہ گیا ہے لیکن معاملات سیدھے نہیں ہورہے۔

میگا ایونٹ میں پاکستان کرکٹ ٹیم اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گی، جبکہ بنگلہ دیش نے بھی انڈیا میں میچز کھیلنے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب بھارت دیگر ٹیموں میں شامل پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کو ویزے جاری کرنے میں بھی آنا کانی کررہا ہے۔

ابتدا میں یہ خبریں بھی آئیں کہ ان کی درخواستیں مسترد کر دی گئی ہیں، تاہم بعد میں وضاحت کی گئی کہ درخواستیں زیرِ غور ہیں اور حتمی طور پر رد نہیں ہوئیں۔ پسِ منظر میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدہ تعلقات کو ایک بڑی وجہ سمجھا جا رہا تھا۔

بھارتی نیوز ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق آئی سی سی اس وقت تقریباً 42 ایسے کھلاڑیوں اور آفیشلز کے ویزا معاملات میں سہولت فراہم کر رہی ہے جو یا تو پاکستانی شہریت رکھتے ہیں یا پاکستانی نژاد ہیں اور مختلف بین الاقوامی ٹیموں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ نہ صرف فُل ممبر بلکہ کئی ایسوسی ایٹ ممالک کی ٹیموں میں بھی پاکستانی نژاد کرکٹرز شامل ہیں۔

انگلینڈ کی ٹیم میں عادل رشید، ریحان احمد اور فاسٹ بولر ثاقب محمود جیسے نمایاں نام شامل ہیں، جبکہ امریکا کی نمائندگی علی خان اور شایان جہانگیر کر رہے ہیں۔ نیدرلینڈز کی ٹیم میں ذوالفقار ثاقب موجود ہیں اور کینیڈا کی ٹیم کے اسٹاف میں شاہ سلیم ظفر بھی پاکستانی نژاد ہیں۔

رپورٹس کے مطابق انگلینڈ کے تینوں کھلاڑیوں کو انڈین ویزے جاری کر دیے گئے ہیں، جبکہ نیدرلینڈز کے اسکواڈ کو بھی ویزا مل چکا ہے۔ آئی سی سی حکام انڈین ہائی کمیشنز کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی تاخیر یا آخری لمحات میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔

پاکستان