اہم ترین

سانحہ گل پلازا پرماہرہ خان، ہانیہ عامر اور ثروت گیلانی بھی دکھی

گل پلازہ میں پیش آنے والے افسوسناک سانحے پر شوبز انڈسٹری کی معروف شخصیات نے شدید دکھ، غم و غصے اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے فوری اور سنجیدہ نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اداکاراؤں ثروت گیلانی، ماہرہ خان اور ہانیہ عامر نے اس واقعے کو محض حادثہ نہیں بلکہ سنگین غفلت قرار دیتے ہوئے انصاف، جواب دہی اور متاثرین کی بحالی پر زور دیا ہے۔

اداکارہ ثروت گیلانی نے کہا کہ ہم سب یہ پورا سانحہ دیکھ کر ٹوٹ گئے ہیں، یہ بہت المناک واقعہ ہے۔ گل پلازہ سانحے میں لاکھوں کروڑوں کا نقصان ہو چکا ہے، جنریشنز سے چلنے والے فیملی بزنس ختم ہو گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب الزام تراشی نہیں، حل کی طرف جانا ہوگا۔ یہ پرابلم ہو چکی ہے، اب سولیوشن ضروری ہے۔ متاثرین کی بحالی سب سے بڑا چیلنج ہے اور تاجر برادری کو فوری سپورٹ کی ضرورت ہے۔ حکومت اور ادارے سنجیدگی سے نوٹس لیں۔

اداکارہ ماہرہ خان نے بھی گل پلازہ آتشزدگی پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ یہ حادثہ ہے یا مجرمانہ غفلت؟

انہوں نے ناقص ایگزٹ کو سانحے کی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا، میں خود گل پلازہ جا چکی ہوں، وہاں سے نکلنا مشکل تھا۔ زندگیاں ضائع ہو گئیں، اس کا حساب کون دے گا؟

ماہرہ خان نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا اور انصاف و جواب دہی کا مطالبہ کرتے ہوئے زخمیوں کی صحت یابی اور متاثرین کے لیے دعا بھی کی۔

پاکستان کی مقبول اداکارہ ہانیہ عامر نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ گل پلازا میں جو کچھ ہوا وہ دل دہلا دینے والا ہے۔ زندگیاں اس انداز میں ضائع ہوئیں جو کبھی نہیں ہونی چاہئیں تھیں۔ یہ محض ایک حادثہ نہیں تھا بلکہ بڑی لاپرواہی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ نظرانداز کئےگئے اقدامات اور خاموشی کس طرح حقیقی لوگوں سے ان کا مستقبل چھین لیتی ہے۔ ہم متاثرین کے صرف تعزیت کے نہیں بلکہ جواب دہی کے بھی مقروض ہیں۔

ہانیہ عامر نے دعا کی کہ اللہ رب العزت متاثرہ خاندانوں کو اس ناقابلِ تصور نقصان میں حوصلہ اور طاقت عطا فرمائے۔

شوبز شخصیات کے مشترکہ ردِعمل میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سانحہ گل پلازہ نے نہ صرف قیمتی جانیں لیں بلکہ کاروبار تباہ اور خاندانوں کو شدید متاثر کیا۔ مطالبہ کیا گیا کہ ذمہ داران کا تعین کر کے سخت کارروائی کی جائے، حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے اور متاثرین کی فوری بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

پاکستان