اہم ترین

شمالی کوریا سالانہ 20 ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جنوبی کوریا کا انکشاف

جنوبی کوریا کے صدر نے خبردار کیا ہے کہ شمالی کوریا ہر سال اتنا ایٹمی مواد تیار کر رہا ہے جو 10 سے 20 جوہری ہتھیار بنانے کے لیے کافی ہے، اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو یہ صورتحال صرف خطے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

صدر کے مطابق شمالی کوریا نہ صرف ایٹمی مواد کی تیاری میں مصروف ہے بلکہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کی صلاحیت میں بھی مسلسل بہتری لا رہا ہے، جن کا ہدف امریکا اور دیگر ممالک بن سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک وقت آئے گا جب شمالی کوریا خود کو محفوظ رکھنے کے لیے مطلوبہ ایٹمی ذخیرہ اور بین البراعظمی میزائل صلاحیت حاصل کر لے گا، اور اس کے بعد اضافی ایٹمی مواد یا ٹیکنالوجی بیرونِ ملک منتقل ہونے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا، جو ایک سنگین عالمی مسئلہ ہوگا۔

شمالی کوریا کئی دہائیوں سے اپنے جوہری اور میزائل پروگرام کو امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے حکومت کی تبدیلی کی کوششوں کے خلاف دفاعی حکمت عملی قرار دیتا آیا ہے۔

جنوبی کوریا کے صدر نے کہا کہ شمالی کوریا کے ایٹمی مسئلے سے نمٹنے کے لیے حقیقت پسندانہ اور لچکدار رویہ اپنانا ہوگا، اور ان کے مطابق ٹرمپ طرز کی حکمت عملی پیانگ یانگ کے ساتھ رابطے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر شمالی کوریا ایٹمی مواد کی تیاری، بین البراعظمی میزائلوں کی ترقی اور بیرونِ ملک ترسیل روک دے تو یہ پیش رفت سب کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ مؤقف امریکی صدر اور چینی صدر کے سامنے بھی رکھا ہے۔

جون میں اقتدار سنبھالنے کے بعد جنوبی کوریا کے صدر نے بغیر کسی پیشگی شرط کے شمالی کوریا سے بات چیت کی پالیسی اپنائی ہے، جو سابق حکومت کے سخت گیر مؤقف سے بالکل مختلف ہے۔

اگرچہ شمالی کوریا نے سیول کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کیا ہے، تاہم جنوبی کوریا کے صدر کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ بات چیت کی راہ ہموار کر سکتے ہیں، کیونکہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ماضی میں براہِ راست ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی غیر روایتی شخصیت بعض اوقات جزیرہ نما کوریا کے مسائل حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، اور وہ خود اس عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

واضح رہے کہ ٹرمپ اور کم جونگ اُن کے درمیان ماضی میں تین ملاقاتیں ہوئیں، تاہم ایٹمی ہتھیاروں کے بدلے مراعات پر اختلافات کے باعث بات چیت آگے نہ بڑھ سکی۔

حالیہ دنوں میں شمالی کوریا نے جنوبی کوریا پر سرحدی شہر کیسونگ میں ڈرون بھیجنے کا الزام عائد کیا تھا، جس کی جنوبی کوریا نے تردید کی ہے، جبکہ ایک شہری نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کا مقصد یورینیم تنصیب کے قریب تابکاری کی سطح ناپنا تھا۔

پاکستان