ویلنگٹن: نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کرسٹوفر لکسن نے ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت عوام 7 نومبر کو نئی پارلیمنٹ کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔ یہ انتخابات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ملک کو معاشی سست روی اور بڑھتی بے روزگاری جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
وزیراعظم نے انتخابی تاریخ کا اعلان کرتے ہوئے اپنی حکومت کی کارکردگی کا دفاع کیا اور کہا کہ ان کے دور میں مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے اور جرائم کے واقعات میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے گزشتہ دو برسوں میں ملک کو درست سمت میں واپس لانے کے لیے سخت فیصلے کیے ہیں۔
کرسٹوفر لکسن کی جماعت نیشنل پارٹی نے 2023 کے انتخابات میں لیبر پارٹی کو بھاری شکست دے کر اقتدار سنبھالا تھا اور بعد ازاں نیوزی لینڈ فرسٹ اور اے سی ٹی پارٹی کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت قائم کی تھی۔ وزیراعظم نے انتخابی مہم میں قانون کی بالادستی اور مہنگائی جیسے عوامی مسائل کو مرکزی نکتہ بنایا تھا۔
تاہم حالیہ مہینوں میں حکومت کو معاشی محاذ پر دباؤ کا سامنا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران کئی سہ ماہیوں میں معیشت سکڑاؤ کا شکار رہی جبکہ بے روزگاری کی شرح بڑھ کر تقریباً دو دہائیوں کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق حالیہ رائے عامہ کے جائزوں میں نیشنل پارٹی کی مقبولیت میں کمی دیکھی گئی ہے جبکہ اپوزیشن لیڈر کرس ہپکنز کی قیادت میں لیبر پارٹی دوبارہ میدان میں مضبوط ہوتی نظر آ رہی ہے۔ تاہم موجودہ اندازوں کے مطابق نیشنل پارٹی اپنے اتحادیوں کے ساتھ حکومت برقرار رکھنے کی پوزیشن میں اب بھی موجود ہے۔
واضح رہے کہ نیوزی لینڈ میں ہر تین سال بعد ایک ایوانی پارلیمنٹ کے انتخابات ہوتے ہیں، تاہم انتخابات کی حتمی تاریخ کا اعلان حکومت خود کرتی ہے۔











