کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کسی ملک میں گایوں کے بھی پاسپورٹ ہوتے ہیں؟ یہ بات عجیب ضرور لگتی ہے، مگر حقیقت ہے۔ دنیا کا ایک ملک ایسا ہے جہاں گائے کا پاسپورٹ صرف اس کی شناخت نہیں بلکہ اس کی سیکیورٹی اور تحفظ کی ضمانت بھی سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نظام دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
یہ منفرد نظام آئرلینڈ میں نافذ ہے، جہاں ہر گائے کے لیے قانونی طور پر کیٹل پاسپورٹ جاری کیا جاتا ہے۔ یہ قانون یکم جولائی 1996 سے لاگو ہے اور تب سے آئرلینڈ میں پیدا ہونے والی ہر گائے کو اس نظام کے تحت رجسٹر کیا جاتا ہے۔
گائے کے پاسپورٹ میں اس کی مکمل شناخت درج ہوتی ہے، جس میں یونیک آئی ڈی نمبر، تاریخِ پیدائش، جائے پیدائش، نسل اور خاندانی پس منظر شامل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ گائے کو کب اور کہاں منتقل کیا گیا، اس کی مکمل تفصیل بھی ریکارڈ کا حصہ ہوتی ہے، جس سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ گائے فارم سے منڈی اور پھر ذبح خانے تک کن مراحل سے گزری۔
اس نظام کا بنیادی مقصد خوراک کی حفاظت (فوڈ سیفٹی) کو یقینی بنانا ہے۔ اگر کسی بیماری یا آلودہ گوشت کی شکایت سامنے آئے تو حکام فوری طور پر متعلقہ گائے کی پوری ہسٹری ٹریس کر سکتے ہیں۔ اس سے مسئلے کی جڑ تک پہنچنا اور بیماری کو مزید پھیلنے سے روکنا آسان ہو جاتا ہے۔ ساتھ ہی یہ نظام جانوروں کی فلاح و بہبود اور غیر قانونی اسمگلنگ کی روک تھام میں بھی مددگار ثابت ہو رہا ہے۔
آئرلینڈ میں ہر بچھڑے کی پیدائش کے 27 دن کے اندر رجسٹریشن لازمی ہے۔ اس مقصد کے لیے اس کے کان میں شناختی ٹیگ لگایا جاتا ہے، جس کے بعد کیٹل پاسپورٹ جاری کیا جاتا ہے۔ بغیر پاسپورٹ کے نہ تو گائے کی خرید و فروخت ممکن ہے، نہ اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی برآمد کیا جا سکتا ہے۔
آئرلینڈ نے 2025 سے اس نظام کو مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب گایوں کے پاسپورٹ میں فوٹو آئی ڈی شامل کی جا رہی ہے، تاکہ شناخت کو مزید مستحکم بنایا جا سکے اور کسی بھی قسم کی گڑبڑ کا امکان کم سے کم ہو جائے۔ یہ پورا نظام آئرلینڈ کے قومی مویشی ٹریکنگ سسٹم (اے آئی ایم) کا حصہ ہے۔
اگرچہ گایوں کے لیے پاسپورٹ جیسا سخت نظام سب سے مؤثر انداز میں آئرلینڈ میں نافذ ہے، تاہم کینیڈا اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں بھی آر ایف آئی ڈی ٹیگز کے ذریعے مویشیوں کی شناخت اور نگرانی کی جاتی ہے۔ بھارت میں بھی مویشیوں کو یونیک شناخت دینے کے لیے آدھار جیسی اسکیم پر بحث ہو چکی ہے اور کچھ ریاستوں میں اس کے تجربات کیے جا رہے ہیں۔









