اہم ترین

چیٹ جی پی ٹی کا مقبول اے آئی ماڈل جی پی ٹی 4 او ریٹائر

مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک بڑا موڑ آ گیا ہے۔ اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی میں استعمال ہونے والے کئی پرانے اور مقبول اے آئی ماڈلز کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ کا اعلان کر دیا ہے، جن میں سب سے نمایاں نام جی پی ٹی-4o کا ہے—وہ ماڈل جسے یوزرز کے شدید ردِعمل کے بعد ایک بار پہلے بھی بند ہونے سے بچایا گیا تھا۔

اوپن اے آئی کے مطابق 13 فروری کو چیٹ جی پی ٹی سے جی پی ٹی 4 او سمیت جی پی ٹی انسٹنٹ 5، جی پی ٹی تھنکنگ 5، جی پی ٹی4.1، جی پی ٹی 4.1 منی اور 4 او منی کو مکمل طور پر ہٹا دیا جائے گا۔ تاہم کمپنی نے واضح کیا ہے کہ یہ تبدیلی صرف چیٹ جی پی ٹی تک محدود ہو گی، جبکہ اے پی آئی صارفین کو پرانے ماڈلز تک بدستور رسائی حاصل رہے گی۔

جی پی ٹی 4 او کو خاص طور پر اس لیے نمایاں کیا گیا کیونکہ اگست 2025 میں جب جی پی ٹی 5 متعارف ہوا تھا تو اسی ماڈل کو بند کرنے پر یوزرز نے شدید احتجاج کیا تھا۔ صارفین کا مؤقف تھا کہ نئے ماڈلز میں تحریر کی نفاست، جذباتی گہرائی اور تخلیقی انداز کی کمی ہے، جس کے بعد اوپن اے آئی کو جی پی ٹی 4 او دوبارہ بحال کرنا پڑا تھا۔

اب اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ اس نے صارفین کے استعمال کے انداز کو بہتر طور پر سمجھ لیا ہے اور جی پی ٹی 4 او کی نمایاں خصوصیات جی پی ٹی5.2 میں منتقل کر دی گئی ہیں۔ ان میں چیٹ بوٹ کی شخصیت کو بہتر بنانا، تخلیقی آئیڈیاز کی سپورٹ، اور کسٹمائزیشن ٹولز شامل ہیں، جن کے ذریعے یوزرز ردِعمل کا انداز، گرمجوشی اور جوش کی سطح بھی منتخب کر سکتے ہیں۔

کمپنی کے مطابق اس وقت صرف 0.1 فیصد یوزرز روزانہ جی پی ٹی 4 او کا انتخاب کر رہے ہیں، جسے بنیاد بنا کر اس کے خاتمے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تاہم یہ اعلان سوشل میڈیا پر نئے تنازع کو جنم دے چکا ہے۔ کئی صارفین نے اوپن اے آئی کے اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جی پی ٹی 5.2 کو ڈیفالٹ بنانے کے بعد صارفین کو عملاً جی پی ٹی 4 او سے دور کر دیا گیا۔ بعض یوزرز نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ یہ فیصلہ چیت جی پی ٹی چھوڑنے کی دعوت کے مترادف ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ حال ہی میں اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹ مین نے خود اعتراف کیا تھا کہ جی پی ٹی5.2 میں تحریری معیار متاثر ہوا ہے کیونکہ ماڈل کی تربیت کا فوکس زیادہ تر کوڈنگ، منطق اور ریاضی پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

یوں جی پی ٹی 4 او کی ریٹائرمنٹ نہ صرف ایک تکنیکی فیصلہ بلکہ یوزر تجربے، تخلیقی آزادی اور اے آئی کے مستقبل پر ایک نئی بحث چھیڑ چکی ہے۔

پاکستان