تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کو ’’بغاوت‘‘ قرار دیتے ہوئے امریکہ کو سخت وارننگ دے دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو یہ جنگ صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ جائے گا۔
آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں سے ایرانی عوام کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مظاہروں کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل کا ہاتھ ہے اور ریاستی اداروں، مساجد اور بینکوں پر حملے دراصل ایک منصوبہ بند بغاوت کا حصہ تھے، جسے ناکام بنا دیا گیا۔
ایرانی حکام کے مطابق مظاہروں کے دوران تین ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت سکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کی تھی، جبکہ مغربی ممالک ایران پر ہزاروں مظاہرین کے قتل کا الزام عائد کر رہے ہیں۔
دوسری جانب یورپی یونین کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے پر ایرانی پارلیمنٹ نے یورپی افواج کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل دیا۔ ارکانِ پارلیمنٹ نے ’’مرگ بر امریکا‘‘ اور ’’مرگ بر اسرائیل‘‘ کے نعرے لگائے۔
خطے میں امریکی جنگی جہازوں کی تعیناتی کے باوجود ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا، تاہم محدود شرائط کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھلا ہے۔









