امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کیوبا کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے تاکہ کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچا جا سکے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چند دن قبل ٹرمپ نے کیوبا کی کمزور معیشت کو عملی طور پر تیل کی ناکہ بندی کی دھمکی دی تھی۔
اے ایف پی کےمطابق فلوریڈا کے علاقے پام بیچ میں واقع اپنے نجی کلب مار-اے-لاگو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ کیوبا ایک طویل عرصے سے ناکام ریاست ہے اور اب وینزویلا کی مدد بھی اسے حاصل نہیں رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کیوبا کے اعلیٰ ترین حکام سے بات چیت کر رہا ہے اور انہیں امید ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا جائے گا، تاہم انہوں نے اس معاہدے کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
ٹرمپ انتظامیہ نے جنوری کے اوائل میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے اقتدار سے ہٹانے کے بعد کیوبا پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ وینزویلا کیوبا کا قریبی اتحادی اور تیل کی فراہمی کا بڑا ذریعہ رہا ہے۔
گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے، جس کے تحت ان ممالک پر اضافی محصولات عائد کرنے کی دھمکی دی گئی ہے جو کیوبا کو تیل فروخت کرتے ہیں۔ اس اعلان کے بعد ہوانا میں پیٹرول پمپوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں دیکھنے میں آئیں۔
کیوبا میں امریکی ناظم الامور مائیک ہیمر نے وسطی صوبے ترینیداد کے دورے کے دوران کہا کہ انہیں چند افراد کی جانب سے نعرے بازی اور توہین آمیز جملوں کا سامنا کرنا پڑا، تاہم ان کے مطابق یہ افراد کیوبا کے عوام کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ مخصوص سیاسی جماعت سے وابستہ ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے بھی ایک بیان میں کیوبا کی حکومت پر امریکی سفارتکاروں کے کام میں مداخلت کا الزام عائد کیا اور کہا کہ امریکی سفارتکار دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود کیوبا کے عوام سے رابطہ جاری رکھیں گے۔
دوسری جانب، میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت کیوبا کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر خوراک اور دیگر امداد فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور ساتھ ہی تیل کی فراہمی جاری رکھنے کے لیے سفارتی حل تلاش کیا جا رہا ہے۔
کیوبا کی حکومت نے امریکی اقدامات کو جزیرے کی معیشت کو دبانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں بجلی کی بندشیں بڑھ رہی ہیں اور ایندھن کی قلت مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔









