اہم ترین

گیس کے بادلوں سے جنم لینے والے بلیک ہولز، کائنات کی ابتدا کی نئی کہانی

کائنات کی ابتدا کے صرف 20 کروڑ سال بعد ہی انتہائی دیوہیکل بلیک ہولز کی تیز رفتار افزائش نے سائنس دانوں کو طویل عرصے سے حیران کر رکھا ہے۔ یہ بلیک ہولز، جن کا وزن ہمارے سورج سے لاکھوں گنا زیادہ ہے، روایتی سائنسی نظریات کے مطابق ستاروں کے ملبے سے آہستہ آہستہ بننا ممکن نہیں تھا۔ تاہم ناسا کے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سے حاصل ہونے والے نئے شواہد نے ان دیوہیکل بلیک ہولز کی پیدائش سے متعلق ایک متبادل نظریے کو مضبوط کر دیا ہے۔

ماہر فلکیات پریام ودا نٹراجن اور ان کی ٹیم کے مطابق، ابتدائی کائنات میں موجود خالص اور بڑے گیس کے بادل براہِ راست منہدم ہو کر بلیک ہولز میں تبدیل ہو گئے، بغیر اس کے کہ وہ پہلے ستاروں کی شکل اختیار کرتے۔ ان بلیک ہولز کو “ہیوی سیڈز” یا بھاری بیج کہا جاتا ہے، جن کا ابتدائی وزن دسیوں ہزار سورجوں کے برابر تھا۔

یہی بھاری آغاز ان بلیک ہولز کو وقت کی برتری فراہم کرتا ہے، جس کے باعث وہ کم وقت میں اربوں سورجوں جتنے بڑے ہو گئے۔

نٹراجن کی ٹیم نے پہلے ہی پیش گوئی کی تھی کہ جدید دوربینیں، خصوصاً جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ، مستقبل میں ان بھاری بیجوں کے شواہد فراہم کریں گی۔ اب یورپی ماہرین فلکیات نے اس نظریے کی تصدیق کر دی ہے۔

جیمز ویب کی تازہ ترین مشاہدات کے مطابق، یو ایچ زی1 نامی کہکشاں میں ایک سرگرم بلیک ہول دریافت ہوا ہے جو بگ بینگ کے صرف 47 کروڑ سال بعد موجود تھا اور اس کا وزن تقریباً ایک کروڑ سورجوں کے برابر ہے۔

اسی طرح انفینٹی گلیکسی سسٹم میں دو ٹکراتی ہوئی کہکشاؤں کے درمیان ایک بڑا بلیک ہول پایا گیا ہے، جو گیس کے ایک ایسے ذخیرے میں موجود ہے جو براہِ راست انہدام کے نظریے کی حمایت کرتا ہے۔

ان دریافتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کائنات کے ابتدائی دور میں دیوہیکل بلیک ہولز کی تشکیل براہِ راست گیس کے انہدام کے ذریعے ہوئی، جو کائناتی تاریخ کے ابتدائی عظیم الجثہ اجسام کی پیدائش کو سمجھنے میں ایک انقلابی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

پاکستان