دنیا بھر میں کرپٹو کرنسی رکھنے والے افراد کے خلاف ہونے والے کرپٹو رینچ حملوں میں خطرناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں حملوں کی تعداد اور مالی نقصانات دونوں نے نئی بلند ترین سطح کو چھو لیا ہے۔ ایک سائبر سیکیورٹی رپورٹ کے مطابق، ایسے حملوں میں سالانہ بنیادوں پر 75 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
بلاک چین سیکیورٹی کمپنی سرٹی کے کی رپورٹ وینچ اٹیک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرپٹو رینچ حملہ وہ واقعہ ہوتا ہے جس میں مجرم تشدد، دھمکی یا قید کے ذریعے متاثرہ شخص کو نجی کیز یا پاس ورڈز دینے پر مجبور کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ اب کوئی نایاب واقعہ نہیں بلکہ کرپٹو ہولڈرز کیلئے ایک حقیقی اور بڑھتا ہوا خطرہ بن چکا ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2025 کے دوران 72 مختلف کرپٹو رینچ حملے رپورٹ ہوئے، جن میں اغوا سب سے عام طریقہ رہا۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ جسمانی تشدد کے واقعات میں 250 فیصد اضافہ ہوا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حملہ آور پہلے کے مقابلے میں زیادہ سفاک ہو چکے ہیں۔
جغرافیائی اعتبار سے یورپ سب سے زیادہ متاثرہ خطہ رہا، جہاں دنیا بھر کے 40 فیصد کرپٹو رینچ حملے پیش آئے۔ ان میں فرانس سب سے خطرناک ملک کے طور پر سامنے آیا، جہاں 19 مختلف حملے رپورٹ ہوئے۔ امریکا میں ایسے حملوں کی تعداد آٹھ رہی، جو دوسرے نمبر پر ہے۔
مالی نقصانات کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 میں کرپٹو رینچ حملوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 40.9 ملین ڈالر کا نقصان ہوا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 44 فیصد زیادہ ہے۔ 2024 میں 41 حملوں سے 28.3 ملین ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔
رپورٹ میں کرپٹو صارفین کیلئے حفاظتی تجاویز بھی دی گئی ہیں، جن میں ایک ڈیکوئے والٹ رکھنے کا مشورہ شامل ہے، جس میں محدود مگر قابلِ یقین رقم ہو تاکہ حملے کی صورت میں جان بچائی جا سکے۔ اس کے علاوہ خبردار کیا گیا ہے کہ سیڈ فریز اور ہارڈویئر والٹ کو کبھی ایک ہی جگہ پر نہ رکھا جائے۔
ماہرین کے مطابق، بڑھتے ہوئے یہ پرتشدد واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ کرپٹو سیکیورٹی اب صرف آن لائن مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ براہِ راست جان کے خطرے سے بھی جُڑ چکا ہے۔











