دہشتگرد تنظیم داعش نے گزشتہ روز اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں مسجد خدیجتہ الکبریٰ پر ہونے والے جمعے کی نماز کے دوران خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
بی بی سی کے مطابق ٹیلیگرام پر داعش کے چینلز دعویٰ کیا گیا ہے کہ نماز جمعہ کے دوران خودکش حملہ پاکستان میں متحرک داعش کے گروہ نے کیا۔
داعش کے خبر رساں ادارے عماق نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے، جس میں مبینہ نقاب پوش خودکش حملہ آور کی تصویر شیئر کی گئی ہے۔ بیان کے مطابق یہ حملہ خودکش نوعیت کا تھا۔
دوسری جانب اسلام آباد کے سب سے بڑے اسپتال پمز نے 33 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی ہے۔
ترجمان پمز نے کہا کہ پمز ہسپتال میں مجموعی طور پر 149 زخمی لائے گئے، جن میں سے 28 افراد جاں بحق ہوئے۔ اس وقت پمز میں 77 زخمی زیر علاج ہیں جبکہ 25 افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ پولی کلینک میں 4 افراد جاں بحق ہوئے جب کہ 4 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ بینظیر بھٹو اسپتال راولپنڈی میں 1 فرد جاں بحق ہوا۔










