برطانوی سائنسدانوں نے دنیا میں پہلی بار ایک ایسا مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی نظام تیار کرنےکا دعویٰ کیا ہےجو سمندر میں تیرتے برفانی تودوں (آئس برگ) کو نہ صرف شناخت کرے گا بلکہ ان کے ٹوٹ کر بکھرنے کے بعد بھی ان کا مکمل ریکارڈ محفوظ رکھے گا۔
ماہرین کے مطابق آئس برگ جب کھلے سمندر میں پگھلتے ہیں تو وہ بھاری مقدار میں میٹھا پانی خارج کرتے ہیں، جو عالمی موسمی نظام، سمندری دھاراؤں اور ماحولیاتی توازن پر گہرے اثرات ڈالتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ جیسے ہی یہ دیوہیکل برفانی تودے ہزاروں چھوٹے حصوں میں بکھرتے، ان کا سراغ لگانا تقریباً ناممکن ہو جاتا۔
اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے برٹش انٹارکٹک سروے نے ایک جدید اے آئی سسٹم تیار کیا ہے جو سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے آئس برگ کے جنم کے لمحے ہی انہیں شناخت اور نام دیتا ہے، اور پھر ان کے دہائیوں پر محیط سفر کو ٹریک کرتا ہے۔
یہ سسٹم آئس برگ کے ٹوٹنے کے بعد بننے والے ہر چھوٹے حصے کو اس کے اصل “والدین” سے جوڑ کر ایک مکمل برفانی فیملی ٹری تیار کرتا ہے—ایسا کام جو اس پیمانے پر پہلے کبھی ممکن نہیں تھا۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی پرانے طریقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر ہے، جہاں محققین صرف چند بڑے آئس برگ کو ہاتھ سے شناخت کر پاتے تھے۔ گرین لینڈ میں سیٹلائٹ ڈیٹا پر اس اے آئی کی کامیاب آزمائش ہو چکی ہے۔
برٹش انٹارکٹک سروے کے مطابق یہ نظام مستقبل کے موسم کے بارے میں انتہائی قیمتی معلومات فراہم کرے گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی حدت کے باعث برف کے تیزی سے پگھلنے کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔
ادارے کے ماہر مشین لرننگ بین ایونز کا کہنا ہے کہ اب سائنسدان پہلی بار یہ دیکھ سکیں گے کہ ہر برفانی ٹکڑا کہاں سے آیا، کہاں گیا اور اس کا موسمی اثر کیا ہوا۔ ان کے مطابق یہ مشاہدات اب تک سائنس سے غائب تھے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہی اے آئی ٹیکنالوجی مستقبل میں قطبی علاقوں میں جہاز رانی کو محفوظ بنانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے، جہاں آئس برگ ایک بڑا خطرہ ہوتے ہیں۔
اگرچہ آئس برگ کا ٹوٹنا ایک قدرتی عمل ہے، لیکن سائنسدان خبردار کر رہے ہیں کہ انٹارکٹکا میں برف کے ٹوٹنے کی رفتار خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے—جسے انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمی تبدیلی کا نتیجہ سمجھا جا رہا ہے۔










