دنیا بھر میں ڈیجیٹل سہولیات کے تیزی سے فروغ کے باعث اب ایئرپورٹس، ریلوے اسٹیشنز، میٹرو، کیفے، ہوٹلز اور شاپنگ مالز میں پبلک وائی فائی عام ہو چکا ہے۔ محدود موبائل ڈیٹا رکھنے والے صارفین کے لیے یہ سہولت کسی نعمت سے کم نہیں، تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہی سہولت صارفین کے لیے سنگین سائبر خطرہ بھی بن سکتی ہے۔
جیسے ہی کوئی صارف اپنا اسمارٹ فون کسی کھلے یا غیر محفوظ وائی فائی نیٹ ورک سے جوڑتا ہے، فون اور نیٹ ورک کے درمیان ڈیٹا کا تبادلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں سے خطرات جنم لیتے ہیں۔ اگر نیٹ ورک محفوظ نہ ہو تو درمیان میں موجود کوئی بھی سائبر مجرم صارف کی سرگرمیوں پر نظر رکھ سکتا ہے اور حساس معلومات چرا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق گھریلو انٹرنیٹ کنکشن عام طور پر پاس ورڈ اور انکرپشن سے محفوظ ہوتا ہے، جبکہ پبلک وائی فائی نیٹ ورکس زیادہ تر بغیر سیکیورٹی کے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے نیٹ ورکس ہیکرز کے لیے کھلا دروازہ ثابت ہوتے ہیں، جہاں وہ صارفین کے لاگ اِن ڈیٹا، بینکنگ معلومات، ای میلز اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
اکثر صارفین اس خطرے سے لاعلم رہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ فری وائی فائی محض انٹرنیٹ استعمال کرنے کا آسان ذریعہ ہے، مگر حقیقت میں یہی لاپرواہی ڈیٹا چوری، مالی نقصان اور پرائیویسی کی سنگین خلاف ورزی کا سبب بن سکتی ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کا مشورہ ہے کہ پبلک وائی فائی استعمال کرتے وقت حساس ایپس، آن لائن بینکنگ یا پاس ورڈز کے استعمال سے گریز کیا جائے اور جہاں ممکن ہو محفوظ کنکشن یا اضافی حفاظتی اقدامات اپنائے جائیں۔











