اہم ترین

بجلی بلوں پر اوسطاً 24 فیصد ٹیکس ہے: وفاقی وزیر توانائی کا اعتراف

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے واضح کیا ہے کہ حکومت نے پروٹیکٹڈ اور کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے سبسڈی ختم کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا اور اہل صارفین کو ریلیف بدستور فراہم کیا جاتا رہے گا۔

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ 200 یونٹ یا اس سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو سبسڈی دی جا رہی ہے اور ایسے صارفین کی تعداد دو کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت 2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار، یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین مختلف نوعیت کی سبسڈی سے مستفید ہو رہے ہیں۔

وزیر توانائی کے مطابق بجلی سبسڈی کا حجم 199 ارب روپے سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ گھریلو اور زرعی شعبے کو مجموعی طور پر 527 ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے اہل صارفین کی شناخت کے لیے کیوآر کوڈ سسٹم متعارف کرایا ہے، جس کے تحت 20 لاکھ سے زائد سنگل فیز صارفین اپنی رجسٹریشن مکمل کرا چکے ہیں اور تقریباً 20 لاکھ صارفین اس سہولت سے فائدہ بھی اٹھا چکے ہیں۔ ان کے مطابق ڈیٹا کی جانچ پڑتال کے بعد حقیقی مستحقین کو بلا تعطل سبسڈی فراہم کی جاتی رہے گی۔

اویس لغاری نے بتایا کہ مالی سال 2024-25 کے دوران پاور سیکٹر کے گردشی قرضے میں 780 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ ڈسکوز کے نقصانات کم ہونے سے 193 ارب روپے کی بچت حاصل ہوئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ نجی بجلی گھروں (آئی پی پیز) کے معاہدوں پر نظرثانی کے نتیجے میں تقریباً 3500 ارب روپے کی بچت ممکن ہوئی ہے، جبکہ جنکوز کی غیر ضروری مشینری فروخت کرنے سے مزید 47 ارب روپے کی بچت ہوئی۔

وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ مارچ 2024 سے مئی 2026 کے دوران تمام کیٹیگریز کے صارفین کے لیے بجلی سستی ہوئی ہے۔

ان کے مطابق پروٹیکٹڈ صارفین کے نرخوں میں 31 فیصد کمی آئی۔گھریلو صارفین کے لیے بجلی 16 فیصد سستی ہوئی۔ صنعتی صارفین کے نرخوں میں 33 فیصد کمی کی گئی۔ کمرشل صارفین کے لیے بجلی 8 فیصد سستی ہوئی۔زرعی صارفین کو 14 فیصد ریلیف دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ توانائی شعبے میں جاری اصلاحات کے باعث بجلی کی پیداواری لاگت میں نمایاں کمی آئی ہے اور اس کے فوائد براہِ راست صارفین تک پہنچ رہے ہیں۔

اویس لغاری نے بتایا کہ عوام اور گرڈ سے باہر سولر منصوبوں میں مجموعی طور پر 50 ہزار میگاواٹ تک سرمایہ کاری کی جا چکی ہے، جبکہ حکومت مستقبل میں زیادہ تر پن بجلی اور جوہری توانائی جیسے کم لاگت ذرائع سے بجلی خریدنے پر توجہ دے گی۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بجلی کے بلوں پر ٹیکس بڑھانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ ان کے مطابق اس وقت بجلی بلوں پر اوسطاً 24 فیصد ٹیکس لاگو ہے۔

وزیر توانائی نے خواجہ آصف کے حالیہ سوشل میڈیا بیان کو خود احتسابی کا عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت عوامی مسائل سامنے لانے اور ان کے حل پر یقین رکھتی ہے۔ وزیر دفاع کی جانب سے لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) سے متعلق نشاندہی کے بعد متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی بھی کی جا چکی ہے۔

وزیر توانائی کے مطابق پاور سیکٹر اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور حکومت صارفین کو مزید ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔

پاکستان