صدرآصف زرداری نہ ہوتے تو سی پیک، میٹرو اور اورنج لائن منصوبے ممکن نہ تھے، بلاول

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ایک قیدی ہے 420 جو کہتا ہے کہ میں نے کہا تھا ایبسلوٹلی ناٹ، تمہارے یہ کہنے سے پہلے ایک صدر نے لات مار کر غیرملکی اڈے بند کروائے تھے۔

گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی کی حکومت کو سازش کے ذریعے ختم نہ کیا جاتا تو آج دیامر بھاشا ڈیم مکمل ہوچکا ہوتا۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کے لیے اس وقت دیامر بھاشا ڈیم سے زیادہ اہم کوئی دوسرا منصوبہ نہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم پر عملی پیش رفت پیپلز پارٹی کے دور میں ہوئی اور اس حوالے سے کیے گئے تمام اعلانات عوام کے سامنے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعد میں آنے والی حکومتوں نے بھی اس منصوبے سے متعلق بڑے وعدے کیے، تاہم وہ آج تک پورے نہیں ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے گلگت بلتستان کو شناخت دلانے اور خطے کی ترقی کے لیے تاریخی اقدامات کیے۔ ان کے مطابق دیامر بھاشا ڈیم نہ صرف گلگت بلتستان کے عوام کا حق ہے بلکہ یہ پورے پاکستان کی معاشی اور آبی ضروریات کے لیے ناگزیر منصوبہ ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے اپنے خطاب میں سی پیک اور ملکی انفراسٹرکچر منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر صدر آصف زرداری کے دور میں سی پیک کی بنیاد نہ رکھی جاتی تو بعد میں آنے والی حکومتیں میٹرو، اورنج لائن اور دیگر بڑے ترقیاتی منصوبے شروع نہ کرسکتیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اٹھارویں ترمیم نے صوبوں کو اختیارات منتقل کرکے ترقی کا نیا راستہ کھولا۔

بلاول بھٹو نے سابق وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک “قیدی 420” خود کو “ایبسلوٹلی ناٹ” کا خالق قرار دیتا ہے، حالانکہ غیر ملکی فوجی اڈے بند کرانے کا عملی فیصلہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں کیا گیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی نے ملک میں موجود غیر ملکی عسکری تنصیبات کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

انہوں نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ دیامر بھاشا ڈیم کی تکمیل کے لیے شہباز اسپیڈ کا مظاہرہ کریں تاکہ یہ قومی اہمیت کا منصوبہ جلد پایہ تکمیل تک پہنچ سکے۔پاکستان کی ترقی گلگت بلتستان کی ترقی سے جڑی ہوئی ہے اور جس طرح اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو اختیارات دیے گئے، اسی طرز پر گلگت بلتستان کو بھی مزید آئینی اور انتظامی اختیارات ملنے چاہئیں۔