اسرائیل میں فائرنگ سےایک یہودی ہلاک، دو مبینہ حملہ آوروں کو شہید کرنےکا دعویٰ

اسرائیل کے وسطی علاقے میں فائرنگ کے ایک حملے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور چار دیگر زخمی ہو گئے، جبکہ اسرائیلی پولیس نے واقعے میں ملوث دو مشتبہ حملہ آوروں کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اسرائیلی پولیس کے مطابق حملہ کوخاو یائر کے داخلی راستے کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر کیا گیا۔ حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک حملہ آور کو ہلاک کر دیا۔

اسرائیلی ایمرجنسی سروس میگن ڈیوڈ ایڈوم (ایم ڈی اے) کے مطابق تقریباً 30 سالہ ایک شخص موقع پر ہی دم توڑ گیا، جبکہ چار افراد زخمی ہوئے جن میں ایک کی حالت تشویشناک اور تین کی حالت درمیانی نوعیت کی بتائی گئی ہے۔

ایمرجنسی حکام کے مطابق زخمیوں میں دو افراد کو کوخاو یائر کے قریب پیٹرول اسٹیشن سے منتقل کیا گیا، جبکہ دیگر متاثرین قریبی علاقوں تزور یتزحاک اور تزور ناتان میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعات میں زخمی ہوئے۔

واقعے کے بعد اسرائیلی ہوم فرنٹ کمانڈ نے قلقیلیہ کے نزدیک واقع یہودی بستی تزور یتزحاک کے رہائشیوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت جاری کر دی۔ حکام کو شبہ ہے کہ حملے میں ملوث ایک اور مسلح شخص فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ہے، جس کی تلاش کے لیے وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے۔

اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ متعدد فائرنگ کے واقعات کی اطلاعات ملنے کے بعد فوجی دستوں کو سالیت اور تزور یتزحاک کے علاقوں میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق سکیورٹی فورسز ممکنہ دوسرے حملہ آور کی تلاش میں مصروف ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملے میں ملوث دو مشتبہ افراد مارے جا چکے ہیں، تاہم واقعے کی مکمل تفصیلات اور محرکات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔