کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو 14 نے کلیسا کے ارکان کی جانب سے جنسی زیادتی کے واقعات کو ناسور قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چرچ کو متاثرین کے لیے انصاف، سچائی، ازالے اور تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا۔
اے ایف پی کے مطابق اسپین کے بشپ صاحبان سے خطاب کرتے ہوئے پوپ لیو نے کہا کہ جنسی تشدد سے متاثر ہر فرد کو مخلصانہ سماعت، تحفظ اور مکمل بحالی کے مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔ چرچ میں نگہداشت اور احتساب کی ثقافت کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس سے قبل پوپ لیو چہاردہم نے اسپین کی پارلیمنٹ سے ایک غیر معمولی خطاب بھی کیا، جس میں انہوں نے عالمی امن، ہجرت، انسانی وقار اور سماجی انصاف پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ اور اسلحہ پائیدار امن کی ضمانت نہیں بن سکتے، جبکہ مسائل کا حل صبر، مکالمے اور تعاون میں پوشیدہ ہے۔
پوپ نے غیر قانونی ہجرت کے مسئلے کے حل کے لیے محفوظ اور قانونی راستوں کی حمایت کی اور کہا کہ تارکین وطن کو عزت، احترام اور معاشرے میں ضم ہونے کے حقیقی مواقع ملنے چاہئیں۔
اسپین کے محتسب کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق 1940 کے بعد سے تقریباً دو لاکھ نابالغ افراد کلیسا سے وابستہ افراد کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا شکار ہوئے، جس کے بعد حکومت اور چرچ نے رواں برس متاثرین کو معاوضہ دینے کے لیے ایک معاہدہ بھی کیا ہے۔



