ایران کے پارلیمانی اسپیکر اور امریکا سے مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ تہران کے غیر منجمد کیے گئے اثاثے صرف امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری پر خرچ کیے جائیں گے۔
محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ ایران کے اثاثوں سے امریکی زرعی اجناس خریدی جائیں گی۔ انہوں نے واشنگٹن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑی حقیقت دہائیوں کی بداعتمادی ہے۔
یہ ردعمل امریکی صدر کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ابتدائی مالی ریلیف کے تحت تقریباً 500 ملین ڈالر کی امریکی مصنوعات خریدی جائیں گی اور ایران کو براہِ راست نقد رقم فراہم نہیں کی جائے گی۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا تھا کہ اگر ایرانی اثاثے بحال کیے گئے تو یہ رقم امریکی کسانوں کو فائدہ پہنچانے اور ایرانی عوام کو خوراک فراہم کرنے میں استعمال ہوگی۔
تاہم ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ پاکستان کی ثالثی سے ہونے والی مفاہمتی یادداشت میں ایسی کوئی شرط شامل نہیں کہ ایران لازمی طور پر امریکی اجناس خریدے گا۔ ایرانی میڈیا نے اس معاہدے کو تہران کی سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق جاری معاہدے کی تفصیلات پر دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے، جبکہ اصل اختلاف اس بات پر ہے کہ غیر منجمد اثاثوں کو کس طرح استعمال کیا جائے گا۔
امریکا اور ایران کے درمیان یہ مفاہمتی عمل 18 جون کو شروع ہوا تھا، جس کے بعد دونوں فریق معاہدے کے عملی نکات طے کرنے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔











