اہم ترین

جنوبی یورپ جنگلاتی آگ کی لپیٹ میں، ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور

جنوبی یورپ کے متعدد ممالک اس وقت شدید جنگلاتی آگ کی لپیٹ میں ہیں، جہاں فرانس، اسپین، پرتگال، یونان، کروشیا اور البانیہ میں آگ کے باعث ہزاروں افراد کو اپنے گھر خالی کرنا پڑے، جبکہ حکام نے کئی علاقوں میں ہنگامی اقدامات نافذ کر دیے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق مختلف ممالک میں اب تک 19 ہزار ہیکٹر سے زائد رقبہ جل کر خاکستر ہو چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید گرمی، تیز ہوائیں اور غیر معمولی خشک موسم آگ کے تیزی سے پھیلنے کی بڑی وجوہات ہیں، جبکہ آئندہ چند روز کے دوران بعض علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

فرانس کے جنوب مغربی شہر پرپیگنان کے قریب سب سے بڑا جنگلاتی آتش زدگی کا واقعہ پیش آیا، جہاں 700 سے زائد فائر فائٹرز خصوصی طیاروں کی مدد سے آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آگ نے اب تک تقریباً 4 ہزار 600 ہیکٹر رقبہ اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جبکہ 10 ہزار سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ حکام کے مطابق ایک فائر فائٹر اور ایک مقامی شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔

آگ کے باعث فرانس میں دنیا کی مشہور ٹور ڈی فرانس سائیکل ریس بھی متاثر ہوئی۔ انتظامیہ نے پیرینیز کے علاقے میں ہونے والے تیسرے مرحلے کے دوران شائقین کے داخلے پر پابندی عائد کرتے ہوئے صرف سائیکلسٹوں اور ریس سے متعلق ضروری گاڑیوں کو گزرنے کی اجازت دی۔

یونان کے شہر تھیسالونیکی میں جنگلاتی آگ دو فیکٹریوں تک پہنچ گئی، جس کے بعد اردگرد کے علاقوں کو خالی کرا لیا گیا اور شہریوں کو زہریلے دھوئیں کے پیش نظر گھروں کی کھڑکیاں بند رکھنے کی ہدایت کی گئی۔ اسپین کے ساحلی علاقے کوسٹا براوا میں بھی دو روز کے دوران 2 ہزار 200 ہیکٹر سے زائد رقبہ جل گیا، جبکہ حکام نے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث آگ بجھانے کے عمل کو مزید مشکل قرار دیا ہے۔

اسی دوران کروشیا کے جزیرے ہوار اور البانیہ کے علاقے ٹالے میں بھی جنگلات، انگور کے باغات اور جھاڑیاں آگ کی نذر ہو گئی ہیں۔ پرتگال، اسپین اور جنوبی فرانس میں گرمی کی نئی لہر کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

ماہرین موسمیات اور فائر حکام کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث یورپ میں جنگلاتی آگ کا موسم معمول سے پہلے شروع ہو گیا ہے، جس کے باعث آنے والے ہفتوں میں صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔

پاکستان