گوگل نے اپنی سرچ سروسز کی پرائیویسی سیٹنگز میں خاموشی سے ایک اہم تبدیلی متعارف کرائی ہے، جس کے تحت صارفین کی جانب سے اپ لوڈ کی جانے والی تصاویر، آڈیو، ویڈیوز اور دیگر فائلیں کمپنی کے مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈلز کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں، جب تک کہ صارف اس فیچر کو خود بند نہ کرے۔
رپورٹس کے مطابق جون میں صارفین کو بھیجے گئے ایک ای میل کے ذریعے گوگل نے سرچ سروسز ہسٹری اور پرسنلائزڈ ریکمینڈینشن کے نام سے دو نئی پرائیویسی سیٹنگز متعارف کرائیں۔ ان کے ذریعے صارفین اپنی سرگرمی محفوظ رکھنے، ذاتی نوعیت کی سفارشات حاصل کرنے اور ڈیٹا خودکار طور پر حذف ہونے کی مدت کا تعین کر سکتے ہیں۔
یہ تبدیلی صرف گوگل سرچتک محدود نہیں بلکہ گوگل میپس، شاپنگ، فلائنٹس، ہوٹلز ، ترجمہ اور گوگل نیوز سمیت دیگر سرچ سروسز پر بھی لاگو ہوتی ہے۔
مثال کے طور پر اگر کوئی صارف گوگل لینس کے ذریعے تصویر لے کر سرچ کرتا ہے تو وہ تصویر محفوظ کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح سرچ لائیو یا دیگر وائس سرچ فیچرز استعمال کرنے پر آڈیو ریکارڈنگز بھی محفوظ ہو سکتی ہیں۔ گوگل ٹرانسلیٹ میں بولنے کی مشق کے دوران ریکارڈ کی گئی آواز بھی اس ڈیٹا کا حصہ بن سکتی ہے۔
گوگل نے اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ محفوظ کردہ میڈیا اور سرچ ہسٹری کو کمپنی اپنی سروسز، اے آئی ماڈلز اور حفاظتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ کمپنی کے مطابق بعض معاملات میں انسانی جائزہ لینے والے بھی اس عمل کا حصہ ہو سکتے ہیں تاکہ سروسز کی کارکردگی اور حفاظت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق یہ رجحان صرف گوگل تک محدود نہیں بلکہ دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی صارفین کے اپ لوڈ کردہ مواد کو اے آئی کی تربیت کے لیے استعمال کر رہی ہیں تاکہ مصنوعی ذہانت کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
صارفین کیا کر سکتے ہیں؟
گوگل نے صارفین کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اپنی پرائیویسی سیٹنگز میں جا کر سرچ سروسز ہسٹری کے تحت سیو میڈیا کا آپشن الگ سے بند کر سکتے ہیں۔ اگر چاہیں تو سرچ ہسٹری محفوظ کرنے کا فیچر بھی مکمل طور پر غیر فعال کیا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ صارفین اپنی محفوظ کردہ معلومات کو 3 ماہ، 18 ماہ یا 36 ماہ بعد خودکار طور پر حذف کرنے کا انتخاب بھی کر سکتے ہیں۔ ماہرین صارفین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنی گوگل پرائیویسی سیٹنگز کا جائزہ لے کر اپنی ضروریات کے مطابق انہیں ترتیب دیں تاکہ ذاتی معلومات پر زیادہ کنٹرول برقرار رکھا جا سکے۔











