اہم ترین

ایلون مسک کو بڑا دھچکا: اسٹارشپ کی اڑان آخری لمحے منسوخ

دنیا کے امیر ترین انسان ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس نے جمعرات کو اپنے طاقتور راکٹ اسٹارشپ کی 13ویں آزمائشی پرواز لانچ سے چند لمحے قبل منسوخ کر دی۔ خودکار حفاظتی نظام نے اس وقت لانچ روک دیا جب سپر ہیوی بوسٹر کے بعض ریپٹر انجن مطلوبہ انداز میں اسٹارٹ نہ ہو سکے۔

اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ چند انجنوں کے نہ چلنے کے باعث خودکار لانچ ابورٹ سسٹم فعال ہو گیا، جس کے بعد راکٹ سے ایندھن محفوظ طریقے سے نکالنے کا عمل شروع کر دیا گیا۔

بعد ازاں انہوں نے بتایا کہ دو ریپٹر انجن تبدیل کیے جائیں گے اور اگر تمام تیاریاں مکمل رہیں تو اگلا لانچ آئندہ ہفتے کے آغاز میں متوقع ہے۔

یہ اسٹارشپ کی مجموعی طور پر 13ویں آزمائشی پرواز ہونی تھی، جس کے اہداف مئی میں ہونے والی گزشتہ پرواز سے ملتے جلتے تھے۔ اس مشن میں جدید تھرڈ جنریشن اسٹارشپ کی کارکردگی کا مزید جائزہ لینا، 20 اسٹارلنک V3 سیٹلائٹس کو مدار میں بھیجنا، خلا میں ریپٹر انجن کو دوبارہ روشن کرنے کا تجربہ کرنا اور ہیٹ شیلڈ کی نئی بہتریوں کا امتحان شامل تھا۔

گزشتہ آزمائشی پرواز زیادہ تر کامیاب رہی تھی، تاہم سپر ہیوی بوسٹر میں انجنوں کی خرابی کے باعث اسے منصوبہ بندی کے مطابق واپس اتارنے کے بجائے خلیجِ میکسیکو میں گرایا گیا تھا۔ اسپیس ایکس کے مطابق اس تجربے کے بعد ہارڈویئر اور سافٹ ویئر میں متعدد تبدیلیاں کی گئی ہیں تاکہ سابقہ خامیوں کو دور کیا جا سکے۔

یہ مشن اس لحاظ سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ جون میں وال اسٹریٹ پر کامیاب ابتدائی شیئرز فروخت (آئی پی او) کے بعد یہ اسپیس ایکس کی پہلی اسٹارشپ پرواز ہوتی۔ کمپنی تیزی سے اپنے اسٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ نیٹ ورک کو وسعت دے رہی ہے اور مستقبل میں خلا میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے۔

اسٹارشپ پروگرام ناسا کے لیے بھی انتہائی اہم ہے کیونکہ اسپیس ایکس کو مستقبل کے قمری مشنز کے لیے چاند پر انسان اتارنے والے لینڈر کی تیاری کا معاہدہ حاصل ہے۔

پاکستان