اہم ترین

امریکی حملوں پر ایران کے بھرپور جواب: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر

امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ دونوں ممالک نے جمعہ کو ایک دوسرے پر بڑے حملے کیے، جبکہ ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں مختلف امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس سے خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق امریکی حملوں میں شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، جن میں ایک ہوائی اڈہ، ریلوے اسٹیشن اور دو پل شامل ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق رات بھر ہونے والے حملوں میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔

ایران کی وزارتِ توانائی نے جنوبی علاقوں میں توانائی کی تنصیبات پر مبینہ امریکی حملوں کے بعد شہریوں سے بجلی کا کم استعمال کرنے اور شدید گرمی کے باوجود ائیرکنڈیشنرز محدود رکھنے کی اپیل کی ہے۔

جواب میں ایران نے کویت، قطر، بحرین اور عمان میں امریکی فوجی تنصیبات، ریڈار سسٹمز اور فضائی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ قطر نے کہا کہ اس نے ایرانی میزائل حملہ فضا ہی میں ناکام بنا دیا، جبکہ اردن نے بھی تین ایرانی میزائل مار گرانے کی تصدیق کی۔

عراق کے کردستان علاقے میں بھی حملوں کے دوران ایک ایرانی کرد اپوزیشن گروپ کے آٹھ ارکان مارے گئے، جبکہ علاقائی حکومت نے ان کارروائیوں کو عراق کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔

ایران کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ دوبارہ شروع ہونے کے بعد اب تک ملک میں کم از کم 38 افراد ہلاک اور 400 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

ادھر آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، ایک بار پھر تنازع کا مرکز بن گئی ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا، جبکہ امریکا نے ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی بھی دوبارہ نافذ کر دی ہے۔

دوسری جانب چین اور پاکستان نے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی پر زور دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو معاہدے کی خلاف ورزی پر جوابدہ ٹھہرائیں گے، تاہم سفارت کاری کا راستہ اب بھی کھلا ہے۔

پاکستان